صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
342. باب المعجزات - ذكر شهادة الذئب لرسول الله صلى الله عليه وسلم على صدق رسالته-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ بھیڑیے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کی گواہی دی
حدیث نمبر: 6494
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا رَاعٍ يَرْعَى بِالْحَرَّةِ إِِذْ عَرَضَ ذِئْبٌ لِشَاةٍ مِنْ شَائِهِ، فَجَاءَ الرَّاعِي يَسْعَى، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لِلرَّاعِي: أَلا تَتَّقِي اللَّهَ، تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ رِزْقٍ سَاقَهُ اللَّهُ إِِلَيَّ؟، قَالَ الرَّاعِي: الْعَجَبُ لِلذِّئْبِ، وَالذِّئْبُ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ، يُكَلِّمُنِي بِكَلامِ الإِِنْسِ، قَالَ الذِّئْبُ لِلرَّاعِي: أَلا أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا؟ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ، يُحَدِّثُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ، فَسَاقَ الرَّاعِي شَاءَهُ إِِلَى الْمَدِينَةِ، فَزَوَاهَا فِي زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مَا قَالَ الذِّئْبُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ لِلرَّاعِي:" قُمْ فَأَخْبِرْ"، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِمَا قَالَ الذِّئْبُ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ الرَّاعِي، أَلا مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ كَلامُ السِّبَاعِ الإِِنْسَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الإِِنْسَ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلُ نَعْلَهُ وَعَذَبَةَ سَوْطِهِ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِحَدِيثِ أَهْلِهِ بَعْدَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک چرواہا پتھریلی زمین پر بکریاں چرا رہا تھا۔ اسی دوران ایک بھیڑیا اس کی بکری کے پاس آیا۔ وہ چرواہا دوڑتا ہوا آیا اس نے اس بکری کو بھیڑیے سے چھڑا لیا۔ اس بھیڑیے نے چرواہے سے کہا: تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو، تم میرے اور اس رزق کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہو جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بھیجا تھا۔ اس چرواہے نے کہا: بھیڑیے پر حیرانگی ہے وہ بھیڑیا جس کی شکل و صورت بھیڑیے جیسی ہے وہ انسانوں کی طرح میرے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس بھیڑیے نے اس چرواہے سے کہا: کیا میں تم کو اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں۔ یہ دو طرف کی پتھریلی زمین کے درمیان (مدینہ منورہ میں) اللہ کے رسول ہیں جو لوگوں کو ان باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں، پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آ گیا۔ اس نے وہاں کے گوشے میں ان کو کھڑا کیا اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیڑیے کی گفتگو کے بارے میں بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چرواہے سے کہا: تم کھڑے ہو اور لوگوں کو بتاؤ۔ اس نے لوگوں کو بتایا جو بھیڑیے نے کہا: تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چرواہے نے سچ کہا: ہے۔ خبردار! قیامت کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔ اور آدمی اپنے جوتے کے ساتھ اور اپنے کوڑے کے کنارے کے ساتھ کلام نہیں کرے گا۔ اس کا زانو اس کو اس بارے میں بتائے گا کہ اس کے بعد اس کی اہلیہ نے کیا کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6460»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (122)، «المشكاة» (5459).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري