صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
368. باب المعجزات - ذكر ما أكرم الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بهزيمة المشركين عنه عن قبضة تراب رماهم بها-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی شکست سے نوازا جب انہوں نے ان پر مٹی کی مٹھی پھینکی
حدیث نمبر: 6520
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، قَالَ: فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ، تَقَدَّمْتُ، فَأَعْلُو ثَنِيَّةً، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ، فَتَوَارَى عَنِّي، فَمَا دَرَيْتُ مَا اصْنَعُ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِِلَى الْقَوْمِ، فَإِِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا، وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِِحْدَاهُمَا، مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى، قَالَ: فَانْطَلَقَ رِدَائِي، فَجَمَعَتُهُ، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزِعًا"، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِِنْسَانًَا إِِلا مَلأَ عَيْنَهُ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ، فَوَلُّوا مُدْبِرِينَ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں۔ میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں شرکت کی۔ راوی کہتے ہیں: جب ہم دشمن کے مدمقابل آئے تو میں آگے بڑھا اور میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا، دشمن کا ایک شخص میرے مدمقابل آیا تو میں نے اسے تیر مارا۔ وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ جب میں نے لوگوں کی صورت حال کا جائزہ لیا تو دشمن دوسری گھاٹی سے نمودار ہو رہا تھا۔ اس کا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا سامنا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر پیچھے ہٹ گئے، میں بھی پسپا ہو کر پیچھے ہٹا۔ میرے جسم پر دو چادریں تھیں جن میں سے ایک کو میں نے تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا اور دوسری کو جسم پر لپیٹا ہوا تھا۔ میری وہ والی چادر گر گئی تو میں نے اسے اٹھایا اور لپیٹا، میرا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو پسپا ہونے کی صورت حال میں تھے۔ آپ اس وقت اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن اکوع نے گھبراہٹ دیکھ لی ہے جب دشمن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے اترے۔ آپ نے زمین سے مٹھی بھر مٹی لی اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا۔ آپ نے فرمایا: ان کے چہرے بگڑ جائیں، تو ان میں سے جو بھی شخص تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو مٹی سے بھر دیا جو اس مٹھی (میں سے ان کی طرف آئی تھی) تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6520]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6486»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (2824): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
الرواة الحديث:
إياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي