صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
391. باب المعجزات - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6543
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الأَعَاجِيبِ لا نُحَدِّثُهُ، عَنْ غَيْرِكَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَتَى الْمَقَاعِدَ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ، فَقَعَدَ عَلَيْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بِلالٌ، فَنَادَى بِالْعَصْرِ، فَقَامَ مَنْ لَهُ أَهْلٌ بِالْمَدِينَةِ، فَتَوَضَّئُوا، وَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لا أَهْلَ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، " فَوَضَعَ أَصَابِعُهُ فِي الْقَدَحِ، فَمَا وَسِعَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، فَوَضَعَ هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةَ، وَقَالَ:" هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا أَجْمَعِينَ" ، قُلْتُ لأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ أَنَّ هَذَا الْفِعْلَ مِنَ الْمُصْطَفَى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَرْبَعِ مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ: مَرَّةً كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَلْفٍ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ إِِلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي تَوْرٍ، وَالْمَرَّةُ الثَّانِيَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً إِِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي رَكْوَةٍ، وَالْمَرَّةُ الثَّالِثَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ، وَالْمَرَّةُ الرَّابِعَةُ كَانَ الْقَوْمُ ثَلاثَ مِائَةٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَعْبٍ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتِرٌ.
ثابت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں کسی ایسی حیران کن چیز کے بارے میں بتائیے جسے ہم آپ کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے روایت نہ کر سکیں، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ تشریف لے آئے جہاں سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عصر کے لیے اذان دی تو جس بھی شخص کا مدینہ منورہ میں گھر بار تھا وہ گھر گیا، اس نے قضائے حاجت کی مہاجرین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ باقی رہ گئے جن کے اہل خانہ مدینہ میں نہیں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں پانی موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس پیالے میں داخل کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انگلیاں اس پیالے میں نہیں آ سکیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چار انگلیاں اس پیالے میں رکھیں، اور پھر فرمایا: ”آگے آؤ اور تم سب لوگ وضو کر لو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے خیال میں ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی، تو انہوں نے جواب دیا: ستر سے لے کر اسی تک تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں اس طرح مطابقت ہو سکتی ہے کہ یہ معجزہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ صادر ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار مرتبہ مختلف موقعوں پر صادر ہوا۔ ایک مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اور اس وقت پانی (پتھر کے بنے ہوئے پیالے میں تھا) دوسری مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اس وقت پانی رکابی میں تھا۔ تیسری مرتبہ لوگوں کی تعداد ساٹھ سے لے کر اسی تک تھی، اس وقت پانی گہرے پیالے میں تھا۔ چوتھی مرتبہ لوگوں کی تعداد تین سو تھی، اس وقت پانی بڑے پیالے میں تھا۔ اس طرح ان روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6543]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6509»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (200)، م (7/ 59).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6543 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري