صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
410. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر سب المشركين القرآن ومن أنزله ومن جاء به-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے قرآن، اس کے نازل کرنے والے اور اسے لانے والے کی توہین کی
حدیث نمبر: 6563
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بمكة متوار، فكان " إذا صلى بأصحابه رفع صوته، وإذا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ، سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، فَتُسْمِعَ الْمُشْرِكِينَ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، عَنْ أَصْحَابِكَ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ، وَلا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110، بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ" .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا میں ان لوگوں کا امیر تھا، یہاں تک کہ ہم نے اسکندریہ میں پڑاؤ کیا تو ان کے رئیس نے یہ کہا: ایک شخص کو میرے پاس بھیجو جو میرے ساتھ بات چیت کرے اور میں اس کے ساتھ بات چیت کروں تو میں نے کہا: اس کے پاس میرے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا۔ میں وہاں سے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ میرا ترجمان تھا۔ اس کے ساتھ اس کا ترجمان تھا، یہاں تک کہ ہمارے لئے منبر رکھا گیا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون لوگ ہو۔ میں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں ہم کانٹوں اور پتے والے لوگ ہیں (یعنی ہمارے علاقے میں سبزہ اور ہریالی نہیں ہوتی) ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے) لوگ ہیں۔ ہماری زمین سب سے زیادہ تنگ تھی اور ہماری زندگی سب سے زیادہ سخت تھی۔ ہم مردار اور خون بھی کھا لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ہم بدترین حالت میں تھے یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا جو اس وقت قدر و منزلت کے اعتبار سے ہم سب سے زیادہ عظیم نہیں تھے اور نہ ہی مال و دولت کے اعتبار سے زیادہ مال والے تھے۔ انہوں نے یہ کہا: میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں۔ انہوں نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا جن سے ہم آشنا نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ان چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیرا ہوتے تھے اور جن پر ہمارے باپ دادا چلتے تھے۔ ہم نے ان کی تکذیب کی ہم نے ان کی بات کو مسترد کر دیا یہاں تک کہ ان کے پاس ایک قوم آئی جو ہم سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں ہم آپ کی پیروی کرتے ہیں اور جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا ہم اس کے ساتھ لڑیں گے، تو وہ رسول ان کی طرف تشریف لے گئے پھر ہم ان کی طرف جانے کے لئے نکلے ہم نے ان کے ساتھ جنگ کی۔ انہوں نے ہمیں قتل کیا اور ہم پر غالب آ گئے۔ اس کے بعد وہ آس پاس کے دیگر عرب قبائل کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ان کے ساتھ جنگیں کیں، یہاں تک کہ ان پر بھی غالب آ گئے اور میرے بچے موجود عربوں کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی ناز و نعمت والی زندگی گزار رہے ہو تو وہاں موجود ہر شخص تمہارے پاس آ جائے گا اور تم لوگ جس ناز و نعمت میں ہو اس بارے میں تمہارا حصہ دار بن جائے گا۔ اس پر وہ (یعنی کفار کا امیر) ہنس پڑا پھر وہ بولا: تمہارے رسول نے سچ کہا: ہے ہمارے پاس بھی اسی طرح رسول آئے تھے جس طرح تمہارے رسول تشریف لائے۔ ہم بھی ان کی ہدایت پر گامزن رہے، یہاں تک کہ ہمارے درمیان بادشاہوں نے غلبہ حاصل کر لیا۔ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے احکام کو ترک کر دیا تو تم لوگ جب تک اپنے نبی کے حکم پر کاربند رہو گے تمہارے ساتھ جو بھی لڑے گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو شخص تمہارا حصہ دار بننے کی کوشش کرے گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے۔ اور جب تم لوگ وہ طرزعمل اختیار کرو گے جو ہم نے کیا اور تم لوگ نبی کے حکم کو ترک کر دو گے اور تم لوگ وہ عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا تھا جنہوں نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تھی تو پھر تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکو گے کیونکہ عددی اعتبار سے تم ہم سے زیادہ نہیں ہو۔ قوت کے اعتبار سے تم ہم سے زیادہ زبردست نہیں ہو۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی ایسے کسی شخص کے ساتھ گفتگو نہیں کی جو اس شخص سے زیادہ مکار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6563]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6529»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (6430): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي