صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
415. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر رمي المشركين المصطفى صلى الله عليه وسلم بالجنون-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر جنون کا الزام لگایا
حدیث نمبر: 6568
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ، فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَهُ عَلَى يَدَيَّ، قَالَ: فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، وَإِِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدَيَّ مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلٌّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ"، فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَذِهِ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاءِ، هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِِسْلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَى قَوْمِكَ؟"، فَقَالَ: وَعَلَى قَوْمِي، قَالَ: فَبَايَعَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلاءِ شَيْئًا؟ فَقَالُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً، قَالَ: رُدُّوهَا، فَإِِنَّ هَؤُلاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ضماد نامی ایک شخص جس کا تعلق ازد شنوءہ سے تھا مکہ آیا، وہ ہوا (یعنی ذہنی خرابی) کا دم کیا کرتا تھا۔ اہل مکہ کے بے وقوف لوگ یہ کہتے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون لاحق ہو گیا ہے، اس شخص نے کہا: اگر میں اس شخص کو دیکھ لوں تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے میرے ذریعے شفا دے دے۔ راوی کہتے ہیں: اس کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس ہوا (یعنی ذہنی توازن خراب ہونے) کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ذریعے شفا دے دیتا ہے تو کیا آپ کو اس میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» بے شک ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اما بعد۔“ اس شخص نے کہا: آپ اپنے یہ کلمات میرے سامنے دوبارہ دہرائیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرا دیے۔ اس شخص نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے جادوگروں کا کلام سنا ہے شاعروں کا کلام سنا ہے لیکن میں نے آپ کے ان کلمات کی مانند کوئی کلام نہیں سنا۔ آپ اپنا ہاتھ آگے کیجیے تاکہ میں آپ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری قوم بھی کرے گی؟“ اس نے کہا: میری قوم بھی کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ ان لوگوں کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو اس لشکر کے امیر نے اپنے لشکر سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے تو امیر نے کہا: تم وہ انہیں واپس کر دو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کے افراد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6568]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 868، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6568، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3278، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1893، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5882، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2793» «رقم طبعة با وزير 6534»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (3/ 12).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6568 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي