صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
417. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر طرح المشركين سلى الجزور على ظهر المصطفى صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر اونٹنی کی اوجھری پھینکی
حدیث نمبر: 6570
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلُهُ نَاسٌ، إِِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ، فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ: أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ" ، شَكَّ شُعْبَةُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ وَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوجہل نے کہا: کیا تم لوگوں کے درمیان سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کو بچا سکتے ہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تھوڑی ہی دیر کے بعد یوں لگا جیسے وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کسی چیز سے بچنا چاہتے ہیں اور وہ الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔ دوسرے لوگ اس کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا: اے ابوالحکم آپ کو کیا ہوا ہے۔ اس نے کہا: میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق تھی اور ہولناکی تھی اور پر تھے۔ (یعنی غیر مرئی مخلوق تھی) ابومعتمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو اس بندے کو روک رہا تھا جو نماز ادا کر رہا تھا۔“ یہ آیت آخر تک ہے۔ ”تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی نادی کو بلا لے“ یعنی اپنی قوم کو بلا لے۔ ”ہم زبانیہ کو بلا لیں گے“ یعنی فرشتوں کو ”تم اس کی بات نہ مانو۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ اس سورت کے آخر میں سجدہ تلاوت کرنا ہے۔
راوی کہتے ہیں: معتمر کے حوالے سے یہ روایت بھی ہم تک پہنچی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6570]
راوی کہتے ہیں: معتمر کے حوالے سے یہ روایت بھی ہم تک پہنچی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6570]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6536»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (124)، «الصحيحة» (3472): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عمرو بن ميمون الأودي ← عبد الله بن مسعود