🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
424. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن رباعية المصطفى صلى الله عليه وسلم لما كسرت هشمت البيضة على رأسه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر بیان کہ جب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی رباعیہ ٹوٹی تو ان کے سر پر خود ٹوٹ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6579
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًَا سَأَلَهُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْكُبُ الْمَاءَ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْمَاءَ لا يَزِيدُ الدَّمَ إِِلا كَثْرَةً، أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهُ، حَتَّى إِِذَا صَارَ رَمَادًا، أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ" .
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف دیکھا جو مسجد میں چل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم تورات کی تلاوت کرتے ہو۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: انجیل کی، اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: قرآن کی۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اگر میں چاہوں، تو اس کا علم بھی حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں خدا کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم نے میرا ذکر تورات اور انجیل میں پایا ہے، تو اس نے بتایا ہمیں (تورات میں) آپ کا آپ کی اُمت کا آپ کے نکلنے کا (یا ہجرت کے مقام کا) ذکر ملتا ہے اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمارے درمیان (یعنی یہودیوں کے درمیان) مبعوث ہوں گے لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ وہ آپ نہ ہوں لیکن جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو وہ آپ نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نبی کے ہمراہ ان کی اُمت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر کوئی حساب نہیں ہو گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا، جب کہ آپ کے ساتھ تو بہت تھوڑے سے لوگ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ (نبی جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ہے) وہ میں ہی ہوں اور یہ میری اُمت ہے اور (اس کے جنت میں داخل ہونے والے) لوگوں کی تعداد (ستر ہزار اور مزید ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ ہو گی۔) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6579]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6545»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (263): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥إسماعيل بن إبراهيم الترجماني، أبو إبراهيم
Newإسماعيل بن إبراهيم الترجماني ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← إسماعيل بن إبراهيم الترجماني
ثقة مأمون