🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
429. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم على المشركين بالسنين-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین پر قحط سالی کی دعا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6585
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ، قَالَ: يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، قَالَ: فَفَزِعْنَا، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَغَضِبَ، فَجَلَسَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ شَيْئًا، فَلْيَقُلِ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لَمَّا لا يَعْلَمُ لا أَعْلَمُ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، إِِنَّ قُرَيْشًا دَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسِنِي يُوسُفَ"، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا، فَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ، وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَقَوْمُكَ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الدخان آية 10 - 11، إِِلَى قَوْلِهِ: إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، فَيَكْشِفُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِِذَا جَاءَ، ثُمَّ عَادُوا إِِلَى كُفْرِهِمْ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى سورة الدخان آية 16، فَذَلِكَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا سورة الفرقان آية 77، يَوْمَ بَدْرٍ، وَ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ سورة الروم آية 1 - 3، وَالرُّومُ قَدْ مَضَى، وَقَدْ مَضَتِ الأَرْبَعُ .
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص کندہ میں حدیث بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں آئے گا تو وہ منافقین کی سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لے گا جبکہ مومن کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہو گی، راوی کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے گھبرا گئے پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا (انہیں یہ بات بتائی)، وہ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، وہ غصے میں آ گئے اور پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: اے لوگو! جو شخص کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ علم ہونے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی کو جس چیز کے بارے میں علم نہیں ہے وہ اس کے بارے میں یہ کہہ دے: میں نہیں جانتا، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86] تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں، (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے خلاف دعائے ضرر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ» اے اللہ! تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر (قحط کے) ان سات سالوں کے ذریعے جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کے (قحط کے) سات سالوں کی طرح ہوں، (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکار ہونے لگے، وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے، ان میں سے کوئی شخص جب آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے (بھوک کی شدت کی وجہ سے) دھواں سا محسوس ہوتا تھا، ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لیے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة الدخان: 10-11] تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ دردناک عذاب ہو گا، یہ کلام یہاں تک ہے: ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 15] اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ (کفر کی طرف) لوٹ جاتے ہو، جب وہ عذاب (قحط) آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ﴾ [سورة الدخان: 16] جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے سے مراد غزوہ بدر ہے، اور (ارشاد باری تعالیٰ:) ﴿فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا﴾ [سورة الفرقان: 77] تو عنقریب لزام ہو گا سے مراد بھی غزوہ بدر ہے، (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿الٓمٓ * غُلِبَتِ الرُّومُ * فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾ [سورة الروم: 1-3] الف لام میم، رومی مغلوب ہو گئے زمین کے قریب ترین حصے میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) یعنی دھواں، بطشہ، لزام اور چاند کا پھٹنا گزر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6585]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1007، 1020، 4693، 4767، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4764، 6585، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3254، والدارمي فى (مسنده) برقم: 179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6521، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3683» «رقم طبعة با وزير 6551»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (1020)، م (8/ 130 - 131).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← محمد بن كثير العبدي
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 6585 in Urdu