صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
508. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا على المسلمين عند كون الصحابة فيهم أو التابعين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے صحابہ یا تابعین کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر فتح عطا کی
حدیث نمبر: 6666
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالٌ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَهُمْ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ وہ آپ کی خدمت میں کھانا پیش کرتی تھیں۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگی۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا جو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے جائیں گے اور وہ اس سمندر کی پشت پر یوں سوار ہوں گے جس طرح بادشاہ تخت پر بیٹھتے ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کر دی، پھر آپ نے اپنا سر رکھا اور سو گئے پھر جب آپ بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے کے لئے جائیں گے۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات ارشاد فرمائے جو پہلے ارشاد فرمائے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے والوں میں شامل ہو۔
(سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں (جب وہ واپس تشریف لائیں) تو وہ جب سمندر سے باہر آئیں اور اپنی سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے نیچے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6666]
(سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں (جب وہ واپس تشریف لائیں) تو وہ جب سمندر سے باہر آئیں اور اپنی سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے نیچے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6666]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6631»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4748). تنبيه!! رقم (4748) = (4768) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
جابر بن عبد الله الأنصاري ← أبو سعيد الخدري