🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
521. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا على المسلمين كثرة الأموال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مسلمانوں پر اموال کی کثرت کی فتح عطا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6679
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَهُوَ إِِلَى جَنْبِي لا آتِيهِ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ بُعِثَ، فَكَرِهْتُهُ أَشَدَّ مَا كَرِهْتُ شَيْئًا قَطُّ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى الأَرْضِ مِمَّا يَلِيَ الرُّومَ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ، وَإِِنْ كَانَ صَادِقًا اتَّبَعْتُهُ، فَأَقْبَلْتُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ، وَقَالُوا: جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، قَالَ: قُلْتُ: إِِنَّ لِي دِينًا، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، أَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَسْتَ تَأْكُلُ الْمِرْبَاعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ، قَالَ: فَتَضَعْضَعْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، فَإِِنِّي قَدْ أَظُنُّ، أَوْ قَدْ أَرَى، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُسْلِمَ خَصَاصَةٌ تَرَاهَا مِنْ حَوْلِي،" وَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَرْحَلَ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَلَتُفْتَحَنَّ عَلَيْنَا كُنُوزُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَلَيَفِيضَنَّ الْمَالُ أَوْ لَيَفِيضُ، حَتَّى يُهِمَّ الرَّجُلَ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ مَالَهُ صَدَقَةً" ، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَقَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَكُنْتُ فِي أَوَّلِ خَيْلٍ أَغَارَتْ عَلَى الْمَدَائِنِ عَلَى كُنُوزِ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَجِيئَنَّ الثَّالِثَةُ، إِِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي.
ابو عبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، وہ میرے پہلو میں موجود تھے، میں نے ان کے پاس جا کر ان سے دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس گیا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا تھا، پھر میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں زمین کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا جو اہل روم (کے علاقے) کے قریب تھا، میں نے سوچا: اگر میں ان صاحب کے پاس جاؤں، تو اگر یہ جھوٹے ہوئے تو یہ بات مجھ سے مخفی نہیں رہے گی اور اگر یہ سچے ہوئے تو میں ان کی پیروی کر لوں گا، تو میں آ گیا۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو لوگ میری طرف جھانک کر دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: عدی بن حاتم آئے ہیں، عدی بن حاتم آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔ میں نے عرض کی: میرا اپنا دین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے دین کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم مالِ غنیمت میں سے چوتھائی حصہ نہیں کھاتے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تمہارے دین میں تو یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس بات پر میں شرمندہ ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ گمان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں یہ سمجھتا ہوں — یا جیسا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا — تم اس لیے اسلام قبول نہیں کر رہے کہ تم میرے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھ رہے ہو جو ضرورت مند ہیں۔ عنقریب کوئی عورت حیرہ سے کسی کی پناہ لیے بغیر سوار ہو کر جائے گی یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کرے گی اور ہمارے لیے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیے جائیں گے اور مال عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ ایک شخص یہ آرزو کرے گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا مال صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے کسی کی پناہ کے بغیر سوار ہوئی، یہاں تک کہ اس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور میں اس پہلے لشکر میں شامل تھا جس نے مدائن میں کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں پر حملہ کیا تھا اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ تیسری بات بھی ضرور درست ثابت ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6679]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1016، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2428، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 473، 666، 2804، 3311، 6246، 6679، 7206، 7365، 7373، 7374، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8677، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 185، 1843، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 179، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2437، 2438، 2439، 2463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18535» «رقم طبعة با وزير 6644»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر التعليق. * [أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ] قال الشيخ: لم يُوَثِّقْهُ غير المؤلِّف، ولكن روى عنه جمع غير محمد - وهو ابنُ سيرين -؛ منهم: حصين ابن عبد الرحمن السُّلَميُّ، وهو ثقه؛ فحديثه حسن - إن شاء الله -. وقد صحَّحه الحاكم (4/ 519) على شرط الشيخين! ووافقه الذهبي! ولقوله: «أسلم تَسْلَم» طريق أخرى: عند ابن أبي عاصم (135). وقوله: «توشك الظعينة ... » إلخ له شاهد مِنْ طريق أُخرى لعديّ: في «البخاري» (3594). ثُمَّ تَبَيَّنَ لِي أَنَّ ذكر الشَّعْبِي بين المعقوفتين خطأ لا أصل له في شيء من المصادر، وأنَّهُ منقطع بين أبي عُبَيدة بن حُذيفةَ وعدي، بينهما رجل مجهولٌ في أكثر الطرق، عن مُحَمَّدٍ - وهو ابن سيرين -. قد خرَّجتها بأسلوب يَكْشِفُ عَن عِلَّةِ الحديث الَّتِي تجاهل المعلِّقُون على هذا الحديث هنا في «الموارد»، وفي «الضعيفة» (6488). * قال الناشر: ساقطة من الطبعتين واستدركها الشيخ - رحمه الله - من بعض مصادر التخريج؛ فانظر تعليقه على «ضعيف موارد الظمآن» (ص 187). * قال الناشر: انظر التعليق السابق. تنبيه!! ما بين المعقوفتين من «طبعة باوزير» وليس موجودا في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهبصحابي
👤←👥أبو عبيدة بن حذيفة العبسي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن حذيفة العبسي ← عدي بن حاتم الطائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو عبيدة بن حذيفة العبسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥إسحاق بن أبي إسرائيل المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن أبي إسرائيل المروزي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← إسحاق بن أبي إسرائيل المروزي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 6679 in Urdu