صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. ذكر رحمة الله جل وعلا من بلغ أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم حديثا صحيحا عنه-
- اس رحمتِ الٰہی کا ذکر جو اس شخص پر ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث آپ ﷺ کی امت تک پہنچاتا ہے۔
حدیث نمبر: 67
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقُلْتُ: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ إِلا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَجَلْ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ الِلَّهِ امْرَأً سَمِعَ مِنِّي حَدِيثًا فَحَفِظَهُ، حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ، ثَلاثُ خِصَالٍ لا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ أُولاةِ الأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ" .
عبدالرحمن بن ابان اپنے والد (جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے باہر نکلے، تو میں نے سوچا اس وقت مروان نے انہیں کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ہی بلوایا ہو گا، میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے، اس نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تھا جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «نَضَّرَ اللّٰهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا، فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ» ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو مجھ سے کوئی بات سنے اور اسے محفوظ کر لے، یہاں تک کہ دوسرے تک اسے پہنچا دے، کیونکہ بعض اوقات فقہ (یعنی دینی علم) کی کوئی بات سننے والا شخص، اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے، جو اس سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے، اور بعض اوقات دینی بات کا علم حاصل کرنے والا شخص عالم نہیں ہوتا۔“ ”تین خصوصیات ایسی ہیں، جن کے بارے میں کسی مسلمان کا دل خیانت کا شکار نہیں ہوتا: «إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلّٰهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ» عمل کا اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہونا، حکمرانوں کے لیے خیر خواہی رکھنا اور (مسلمانوں کی) جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان لوگوں کی دعا غیر موجود افراد تک بھی پہنچتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 67، 680، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5816، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3660، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2656، والدارمي فى (مسنده) برقم: 235، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 230، 4105، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21991، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 616، 617، 618، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1600، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4890، 4891، 4924، 4925، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7271»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - سيأتي بأتمَّ (679). تنبيه!! رقم (679) = (680) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 67 in Urdu
أبان بن عثمان الأموي ← زيد بن ثابت الأنصاري