علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
549. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف مصالحة المسلمين الروم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسلمانوں اور روم کی مصالحت کی وصف
حدیث نمبر: 6708
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرِ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: بَلِ اللَّهُ غَلَبَ، فَيَثُورُ الْمُسْلِمُ إِِلَى صَلِيبِهِمْ وَهُوَ مِنْهُ غَيْرُ بَعِيدٍ فَيَدُقُّهُ، وَتَثُورُ الرُّومُ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ، فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِالشَّهَادَةِ، فَتَقُولُ الرُّومُ لِصَاحِبِ الرُّومِ: كَفَيْنَاكَ الْعَرَبَ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ عنقریب اہل روم کے ساتھ امن والی صلح کرو گے، یہاں تک کہ تم اور وہ مل کر ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے جو ان سے پرے ہو گا تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی تم لوگ سلامت رہو گے اور مال غنیمت حاصل کرو گے، یہاں تک کہ تم لوگ ایک چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص یہ کہے گا: صلیب غالب آئی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے۔ ان لوگوں کی صلیب مسلمانوں سے زیادہ دور نہیں ہو گی۔ مسلمانوں کا ایک شخص اس کی طرف بڑھے گا اور اسے توڑ دے گا، تو وہ لوگ صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، تو مسلمان اپنے اسلحے کی طرف آئیں گے اور پھر لڑائی شروع کر دیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرے گا وہ رومی اپنے بادشاہ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: جزیرہ عرب پر (حملہ کرنے کے لئے) ہم آپ کا ساتھ دینے کے لئے کافی ہیں۔ پھر وہ جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور جھنڈوں تلے (اکٹھے ہو کر) آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6673»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2472).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6708 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← ذو مخبر الحبشي