صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
581. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن خروج أهل النهروان على الإمام وشق عصا المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ نہروان کے لوگوں کا امام پر خروج اور مسلمانوں کی جماعت توڑنا
حدیث نمبر: 6740
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمَ" ذَكَرَ نَاسًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ، يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، هُمْ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ هُمْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ، تَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِِلَى الْحَقِّ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے اسی دوران بنو تیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ذوخویصرہ آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ انصاف سے کام لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا تو پھر کون عدل کرے گا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کے بارے میں اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے کچھ ایسے ساتھی بھی ہوں گے کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا وہ لوگ اسلام سے یوں نکل جائیں گے، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، جب اس کے پھل کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا جب اس کے کونے کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا جب اس کے رصاف (تیر کے پھل کو تانت باندھنے کی جگہ) کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا جب اس کے نضی (تیر کے پیکان اور پر کے درمیان کا حصہ) کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا جو گوبر اور خون پر سبقت لے گیا ہو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ان لوگوں کی مخصوص نشانی ایک سیاہ فام شخص ہے جس کا ایک بازو عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا اور وہ تھرتھراتے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی مانند ہو گا وہ لوگ لوگوں کے درمیان اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں: ہم نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا کہ اسے تلاش کیا گیا، وہ شخص مل گیا جب اسے لایا گیا اور میں نے اس کا جائزہ لیا تو وہ بالکل ویسا ہی تھا، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حلیہ بیان کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6740]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6705»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (3/ 113).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري