صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
583. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قتل هذه الأمة ابن ابنة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت کا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کا قتل
حدیث نمبر: 6742
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ أَنْ يَزُورَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَكَانَ فِي يَوْمِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ، فَبَيْنَمَا هِيَ عَلَى الْبَابِ، إِِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَطَفِرَ، فَاقْتَحَمَ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يَتَوَثَّبُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَتَلَثَّمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَمَا إِِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، إِِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَأَرَاهُ إِِيَّاهُ، فَجَاءَهُ بِسَهْلَةٍ أَوْ تُرَابٍ أَحْمَرَ" ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلْتُهُ فِي ثَوْبِهَا، قَالَ ثَابِتٌ: كُنَّا نَقُولُ إِِنَّهَا كَرْبَلاءُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، تو پروردگار نے اسے اجازت دے دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”دروازے کا خیال رکھنا، کوئی بھی شخص اندر نہ آئے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ابھی دروازے پر موجود تھیں کہ اسی دوران سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ آ گئے، انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر آ گئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لپٹانے لگے اور ان کا بوسہ لینے لگے۔ فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت تو انہیں شہید کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا سکتا ہوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“، تو اس فرشتے نے اس جگہ کی مٹھی بھر مٹی لی جہاں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جانا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی، وہ فرشتہ نرم (یعنی باریک) مٹی لے کر آیا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سرخ مٹی لایا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی اور اسے اپنے کپڑے میں رکھ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6742]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13743، 14002، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3402، والبزار فى (مسنده) برقم: 6900، والطبراني فى(الكبير) برقم: 2813» «رقم طبعة با وزير 6707»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (821 - 822).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6742 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري