صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
603. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما ينقص الخير في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں خیر کی کمی ہوگی
حدیث نمبر: 6762
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، فَرَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا:" أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ" . ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، قَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، حَتَّى يُقَالَ: إِِنَّ فِي بَنِي فُلانٍ رَجُلا أَمِينًا، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَطْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ، وَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُهُ، لَئِنْ كَانَ مُؤْمِنًَا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايعُ إِِلا فُلانًا وَفُلانًا" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائی تھیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اندر نازل ہوئی اور قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن کا علم حاصل کیا اور سنت کا علم حاصل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے بارے میں بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو قبض کر لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا تھوڑا سا نشان باقی رہ جائے گا، جو دھبے کے نشان کی مانند ہو گا، پھر وہ شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا اتنا نشان باقی رہ جائے گا جتنا اس آبلے کا ہوتا ہے جو کسی انگارے کے تمہارے پاؤں پر لگنے کی وجہ سے ہوتا ہے، تمہیں وہ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کریں گے، لیکن کوئی بھی شخص امانت ادا نہیں کرے گا، یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے گی کہ بنو فلاں میں ایک امین آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک شخص کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ وہ کتنا تیز، کتنا سمجھ دار، کتنا عقل مند ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی بھلائی نہیں ہو گی۔“
(سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں، کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا، لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6762]
(سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں، کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا، لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6497، 7086، 7276، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 143، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6762، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2179، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4053، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20445، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23727» «رقم طبعة با وزير 6724»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6762 in Urdu
زيد بن وهب الجهني ← حذيفة بن اليمان العبسي