صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
670. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الفتنة التي يبتلي الله عباده بها عند خروج يأجوج ومأجوج-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس فتنے کی وصف جو اللہ اپنے بندوں کو یاجوج و ماجوج کے خروج پر آزمائے گا
حدیث نمبر: 6830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الأَرْضِ، حَتَّى إِِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ، فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِِلا فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلاءِ أَهْلُ الأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ إِِلَيْهِمْ مُخَضَّبَةً دَمًا، لِلْبَلاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ يَبْعَثُ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى حَتَّى لا يُسْمَعَ لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلا رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا نَفْسَهُ، فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَؤُلاءِ الْعَدُوُّ، فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلا أَبْشِرُوا، فَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ عَنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا، تو وہ نکل کر لوگوں پر آئیں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے آئیں گے۔“ مسلمان ان سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں کی طرف جائیں گے۔ وہ (یاجوج و ماجوج) اپنے مویشی ساتھ لے کر آئیں گے (جب مسلمان اپنے مویشی ساتھ لے کر قلعوں کی طرف جائیں گے) وہ (یعنی یاجوج و ماجوج) زمین کا سارا پانی پی جائیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نہر کے پاس سے گزرے گا تو یہ کہے گا کیا یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ لوگوں میں سے ہر شخص کسی قلعے یا شہر کے اندر ہو گا ان میں سے ایک شخص یہ کہے گا اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے ہیں اب آسمان والے رہ گئے ہیں پھر ان میں سے ایک شخص اپنا نیزہ لہرائے گا تو اس پر خون لگا ہوا ہو گا۔ یہ آزمائش اور فتنے کے طور پر ہو گا۔ وہ لوگ اب اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اب ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کرے گا، جو نغف (اونٹوں اور بکریوں کی ناک میں پیدا ہونے والا کیڑا) کی مانند ہو گا۔ وہ ان کی گردنوں میں نکلے گا، تو وہ لوگ صبح کے وقت مرے ہوئے ہوں گے، یہاں تک کہ ان کی کوئی آہٹ محسوس نہیں ہو گی۔ مسلمان یہ کہیں گے کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ہمارے لیے اپنی جان کا سودا کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ اس دشمن کا کیا بنا؟ تو ان میں سے ایک شخص اس کام کے لیے الگ ہو گا وہ اپنے آپ کو اس بات کے لیے تیار کر لے گا کہ وہ قتل ہو جائے گا پھر وہ ان لوگوں کو پائے گا کہ وہ تو مرے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے ہیں، تو وہ پکار کر کہے گا: اے مسلمانوں کے گروہ! خبردار۔ تمہارے لیے خوش خبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کے لیے تمہاری کفایت کر دی ہے تو لوگ اپنے شہروں اور قلعوں سے نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو آزاد کر دیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6830]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6791»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1793).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
الرواة الحديث:
محمود بن لبيد الأشهلي ← أبو سعيد الخدري