صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
81. ذكر إثبات محبة الله جل وعلا ورسوله صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب رضي الله عنه وقد فعل-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے محبت کی تصدیق، اور یہ ہوا
حدیث نمبر: 6935
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: خَرَجْنَا إِِلَى خَيْبَرَ، وَكَانَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِِنْ لاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَامِرٌ، قَالَ: غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ يَا عَامِرُ، وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ خَصَّهُ إِِلا اسْتُشْهِدَ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ، خَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَهُوَ مَلِكُهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَنَزَلَ عَامِرٌ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ شَاكِي السِّلاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي فَرَسِ عَامِرٍ فَذَهَبَ لِيَسْفُلَ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ، فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ مِنْهَا نَفْسُهُ، وَإِِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ:" لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ فَبَرَأَ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَةْ أُوفِيهِمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَةْ قَالَ: فَضَرَبَهُ، فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ: فِي فَرَسِ عَامِرٍ، وَإِِنَّمَا هُوَ فِي تُرْسِ عَامِرٍ.
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو رجز پڑھ کر سنا رہے تھے وہ یہ پڑھ رہے تھے۔ ”اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نہ ہوتا تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے بے نیاز نہیں ہو سکتے جب ہمارا (دشمن سے) سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہم پر سکینت نازل کرنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون شخص ہے۔ لوگوں نے بتایا: یہ عامر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے عامر تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بطور خاص کسی شخص کے لئے دعاء مغفرت کرتے تھے تو وہ شخص شہید ہو جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عامر کے ذریعے نفع حاصل کرنے دیتے (یعنی ان کے زندہ رہنے کی دعا دیتے) تو بہتر تھا۔
(راوی کہتے ہیں:) جب ہم خیبر آ گئے تو مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا وہ ان کا بادشاہ تھا وہ یہ کہ رہا تھا۔ ”خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں میں ہتھیار لہراتا ہوں اور تجربہ کار بہادر ہوں اس وقت جب جنگ بھڑک اٹھتی ہے۔“ تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ میدان میں اترے اور انہوں نے کہا:۔ ”خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں عامر ہوں میں ہتھیار اٹھائے ہوئے تجربہ کار بہادر ہوں۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا، تو مرحب کی تلوار سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو لگی پھر وہ بے ق ابوہوا تو ان کی تلوار پلٹ کر انہیں ہی لگ گئی، اس تلوار نے ان کی رگ کو کاٹ دیا اسی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ کہا: عامر کا عمل باطل ہو گیا، کیونکہ اس نے خودکشی کی ہے میں روتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کا عمل باطل ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کس نے یہ کہا: ہے۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ اسے دو مرتبہ اجر ملے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا علی بن ابوطالب کی طرف بھیجا میں ان کے پاس آیا تو ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہاتھ پکڑ کر ساتھ لایا ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن انہیں لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا کیا پھر مرحب نکلا اور پھر اس نے یہی شعر پڑھا۔ ”خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیار لہرائے ہوئے ہوں اور تجربہ کار جنگ جو ہوں اس وقت جب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھتی ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:۔ ”میں وہ شخص ہوں، جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے، جو جنگل کے شیر کی طرح ہے، جسے دیکھنے سے ڈر لگتا ہے میں سندرہ (یعنی ماپنے کے بڑے برتن) کے ذریعے ماپ کر پورا صاع دیتا ہوں (یعنی دشمنوں کو بڑی تیزی سے قتل کر دیتا ہوں)“
راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کر کے مرحب کا سر چیر کر اسے مار دیا تو فتح سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نصیب ہوئی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوخلیفہ نے یہ الفاظ اسی طرح نقل کئے ہیں کہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر وار کیا حالانکہ اصل یہ ہے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کی ڈھال پر وار کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6935]
(راوی کہتے ہیں:) جب ہم خیبر آ گئے تو مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا وہ ان کا بادشاہ تھا وہ یہ کہ رہا تھا۔ ”خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں میں ہتھیار لہراتا ہوں اور تجربہ کار بہادر ہوں اس وقت جب جنگ بھڑک اٹھتی ہے۔“ تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ میدان میں اترے اور انہوں نے کہا:۔ ”خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں عامر ہوں میں ہتھیار اٹھائے ہوئے تجربہ کار بہادر ہوں۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا، تو مرحب کی تلوار سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو لگی پھر وہ بے ق ابوہوا تو ان کی تلوار پلٹ کر انہیں ہی لگ گئی، اس تلوار نے ان کی رگ کو کاٹ دیا اسی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ کہا: عامر کا عمل باطل ہو گیا، کیونکہ اس نے خودکشی کی ہے میں روتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کا عمل باطل ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کس نے یہ کہا: ہے۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ اسے دو مرتبہ اجر ملے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا علی بن ابوطالب کی طرف بھیجا میں ان کے پاس آیا تو ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہاتھ پکڑ کر ساتھ لایا ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن انہیں لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا کیا پھر مرحب نکلا اور پھر اس نے یہی شعر پڑھا۔ ”خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیار لہرائے ہوئے ہوں اور تجربہ کار جنگ جو ہوں اس وقت جب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھتی ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:۔ ”میں وہ شخص ہوں، جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے، جو جنگل کے شیر کی طرح ہے، جسے دیکھنے سے ڈر لگتا ہے میں سندرہ (یعنی ماپنے کے بڑے برتن) کے ذریعے ماپ کر پورا صاع دیتا ہوں (یعنی دشمنوں کو بڑی تیزی سے قتل کر دیتا ہوں)“
راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کر کے مرحب کا سر چیر کر اسے مار دیا تو فتح سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نصیب ہوئی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوخلیفہ نے یہ الفاظ اسی طرح نقل کئے ہیں کہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر وار کیا حالانکہ اصل یہ ہے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کی ڈھال پر وار کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6935]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6896»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «فقه السيرة» (343): م، وهذ تمام الحديث الآتي (7129). تنبيه!! رقم (7129) = (7173) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
إياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي