صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
87. ذكر تخفيف الله جل وعلا عن هذه الأمة بعلي بن أبي طالب رضي الله عنه الصدقة بين يدي نجواهم-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اس امت سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ذریعے نجوٰی سے پہلے صدقہ کے ذریعے تخفیف کی
حدیث نمبر: 6941
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً سورة المجادلة آية 12، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَى دِينَارًا؟ قُلْتُ: لا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: فَكَمْ؟ قُلْتُ: شَعِيرَةٌ، قَالَ: إِِنَّكَ لَزَهِيدٌ، فَنَزَلَتْ أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَات سورة المجادلة آية 13 ٍ الآيَةَ ، قَالَ:" فَبِي خَفَّفَ اللَّهُ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ".
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی چیز نذر پیش کر دیا کرو۔“ اس سے مراد نذر پیش کرنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: تمہاری کیا رائے ہے یہ نذر ایک دینار ہونی چاہئے؟ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: پھر کتنی ہونی چاہئے؟ میں نے کہا: کچھ جَو ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زیادہ کم کر رہے ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے نذر پیش کرو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تخفیف کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6941]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6902»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الترمذي» (3297).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
علي بن علقمة الأنماري ← علي بن أبي طالب الهاشمي