صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
205. ذكر البيان بأن ابن مسعود كان يشبه في هديه وسمته برسول الله صلى الله عليه وسلم-
- ذکر اس بیان کا کہ ابن مسعود اپنی روش اور سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
حدیث نمبر: 7063
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ : أَنْبِئْنَا بِرَجُلٍ قَرِيبِ الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: " مَا أَعْرِفُ أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يُوَارِيهِ جِدَارُ بَيْتِهِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً" .
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں کسی ایسے شخص کے بارے میں بتائیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور آپ کے طور طریقے سے سب سے زیادہ قریب ہو تاکہ ہم اس سے وہ چیز حاصل کر لیں، تو انہوں نے فرمایا: میں ایسے کسی شخص سے واقف نہیں ہوں جو ابن ام عبد سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقوں اور آپ کی رہنمائی اور آپ کی دلالت سے زیادہ قریب ہو، یہاں تک کہ ان کے گھر کی دیوار انہیں چھپا لے (یعنی گھر کے باہر کے معاملات میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے محفوظ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ابن ام عبد، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ ہونے کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7063]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7023»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ مختصراً، دون قوله: حتى يواريه ... إلخ. * [أَبِي إِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو أبو إسحاق السَّبِيعيُّ، وقد صرَّح بالتحديث؛ فأمنَّا تَدليسَه. ورواه عنه شعبة؛ فأمنَّا اختلاطه؛ لأنَّهُ روى عنه قبل الاحتلاط. ومن طريقه: أخرجه أحمد (5/ 395). فالسند صحيح على شرط الشيخين. ورواه البخاري (3762) مُختصرا، دون قوله: «حتَّى يُواريه ... » إلخ. ولقد أخطأَ المُعلِّقُ على «الإحسان» (15/ 538)؛ حين أَطلقَ العزوَ إليهِ؛ فأوهمَ أَنَّهُ عندَه بتمامه! وليس كذلك كما عرفت. ولقد وَقَعَ في نفس الخطإ في طريق شقيق الآتية! وأعاد الخطأ في تعليقه على «سير أعلام النبلاء» (1/ 484 - 485)! ولشعبة فيه إسنادٌ آخر فقال، عن الوليد بن العيزار، عن أبي (الأصل: ابن) عمرو الشيباني، عن حُذيفةَ ... بهذا كلِّه. رواه أحمد عقب الطريق الأولى. وتابَع شُعبة على الطريق الأولى: إسرائيلُ: عند الترمذي (3809) - وصحَّحه -، وأحمد (5/ 389 و 401). ورواه شقيق، قال: قال حُذيفةُ ... فذكرَه نحوه: أخرجه أحمد (5/ 394)، والحاكم (3/ 315)، وصحَّحه على شرط الشيخين، ووافقه الذهبي. لكنْ أخرجه البخاري (6097) مُختصرًا - أيضًا - دون قوله: لقد علم المحفوظون ... إلخ. وهذا القَدْرُ منه؛ رواه ابن أبي شيبة (12284).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← حذيفة بن اليمان العبسي