🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
244. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر قول المصطفى صلى الله عليه وسلم للصديقة بنت الصديق إنه لها كأبي زرع لأم زرع-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدیقہ بنت صدیق کے لیے قول کہ وہ ان کے لیے ابو زرع کی طرح ہیں جیسے ام زرع کے لیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7104
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا، قَالَتِ الأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ، لا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى، وَلا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلُ، وَقَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لا أَبُثُّ خَبَرَهُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لا أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ، وَقَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِيَ الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، وَقَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لا حَرٌّ، وَلا قُرٌّ، وَلا مَخَافَةَ، وَلا سَآمَةَ، وَقَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، وَقَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ، وَلا يُولِجُ الْكَفَّ، لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، وَقَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ، أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ، أَوْ فَلَّكِ، أَوْ جَمَعَ كَلا لَكِ، وَقَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رُفَيْعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ، عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ، فَمَا مَالِكٌ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ، قَلِيلاتُ الْمَسَارِحِ، إِذَا سَمِعْنَ أَصْوَاتَ الْمَزَاهِرِ، أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قَالَتِ الْحَادِيَةُ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ، وَمَا أَبُو زَرْعٍ؟ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنِي، وَمَلأَ مِنْ شَحْمِ عَضُدَيَّ، فَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتُ إِلَى نَفْسِي، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشَقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ، وَأَطِيطٍ، وَدَائِسٍ، وَمُنَقٍّ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلا أُقَبَّحُ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ؟ عُكُومُهَا رَدَاحٌ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ؟ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ، وَابْنَةُ أَبَى زَرْعٍ، فَمَا ابْنَةُ أَبِي زَرْعٍ؟ طَوْعُ أَبِيهَا، وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا، وَغَيْظُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ؟ لا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلا تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ، وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلا سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا، وَأَخَذَ خَطِّيًّا، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا، وَقَالَ: كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ، فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لأُمِّ زَرْعٍ" ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، سَأَلْتُ عِيسَى بْنَ يُونُسَ، عَنِ الدَّائِسِ، فَقَالَ: هُوَ الأَنْدَرُ، وَالْمُنَق ْالغِرْبَالُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ گیارہ عورتیں بیٹھیں، انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ وہ اپنے شوہروں کی باتوں کے بارے میں کچھ نہیں چھپائیں گی۔ پہلی عورت نے کہا: میرا شوہر دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا اونٹ کا گوشت ہے، نہ تو وہ پہاڑ اتنا آسان ہے کہ اس پر چڑھا جا سکے اور نہ گوشت اتنا موٹا تازہ ہے کہ اسے منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ دوسری عورت نے کہا: میرا شوہر ایسا ہے کہ میں اس کے بارے میں اطلاع کو پھیلا نہیں سکتی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی تو اس کی کوئی بھی بات نہیں چھوڑوں گی، اس کی ہر خوبی و خامی بیان کر دوں گی۔ تیسری عورت نے کہا: میرا شوہر بے وقوف ہے، اگر میں بات کروں تو مجھے طلاق دے دی جائے اور اگر خاموش رہوں تو میں لٹکی رہوں۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی طرح ہے، نہ تو گرم ہے نہ ہی ٹھنڈا ہے، نہ ہی خوف زدہ کرنے والا ہے اور نہ ہی افسوس کرنے والا ہے۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر اگر اندر آئے تو چیتا ہے اور اگر باہر جائے تو شیر ہے، وہ اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے عہد لیا (یعنی جو ہدایت کی تھی یا کام کہا تھا)۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر ایسا ہے، اگر کھائے تو سب کھا جاتا ہے، اگر پیے تو سب پی جاتا ہے، اگر لیٹے تو سویا رہتا ہے اور وہ اپنا ہاتھ (لحاف کے اندر) داخل نہیں کرتا تاکہ اسے میری بے چینی کا احساس ہو۔ ساتویں نے کہا: میرا شوہر صحبت نہیں کر سکتا اور بے وقوف ہے، ہر طرح کی بیماری اسے لاحق ہے، وہ تمہیں زخمی بھی کر سکتا ہے اور تمہارا (کوئی عضو) توڑ بھی سکتا ہے اور تمہیں دونوں طرح سے تکلیف بھی پہنچا سکتا ہے۔ آٹھویں نے کہا: میرا شوہر چھونے میں (خرگوش کی طرح نرم ہے) اور اس کی خوشبو «زَرْنَب» زرنب کی طرح عمدہ ہے۔ نویں عورت نے کہا: میرا شوہر بلند ستونوں والا ہے، طویل محفل والا ہے، زیادہ راکھ والا ہے اور اس کا گھر چوپال کے قریب ہے۔ دسویں عورت نے کہا: میرا شوہر مالک ہے، مالک کی کیا بات کروں؟ مالک اس سے زیادہ بہتر ہے (یعنی میں اس کے بارے میں جو بھی کہوں اس سے زیادہ بہتر ہے)، اس کے پاس بہت سے اونٹ ہیں، جو باڑے میں بیٹھے رہتے ہیں، وہ چراگاہ کی طرف کم جاتے ہیں، جب وہ باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے اب ان کی موت کا وقت آ گیا ہے۔ گیارہویں عورت نے کہا: میرا شوہر ابوزرع ہے، ابوزرع کی کیا بات کہوں! اس نے زیورات سے میرے کان لٹکا دیے ہیں اور میرے بازو چربی سے بھر دیے ہیں، اس نے مجھے اتنا خوش کیا اور اتنی خوشیاں دیں کہ میں یہ بھول گئی کہ اس نے مجھے چند بکریوں والوں کے پاس پایا تھا اور پھر مجھے ایک ایسے گھرانے میں لے آیا جہاں گھوڑے، اونٹ، بیل اور کسان موجود تھے، اس کے گھر میں اگر میں کچھ کہتی تو مجھے برا نہیں کہا جاتا اور اگر میں سوتی تو صبح کر دیتی اور اگر پیتی تو سیر ہو جاتی۔ ابوزرع کی ماں، ابوزرع کی ماں کے کیا کہنے! اس کے بڑے برتن ہمیشہ بھرے رہتے ہیں اور اس کا گھر کشادہ ہے۔ ابوزرع کا بیٹا، ابوزرع کے بیٹے کے کیا کہنے! اس کا بستر نرم اور نازک ہے اور وہ دبلا پتلا سا ہے، بکری کے بچے کی دستی اس کا پیٹ بھر دیتی ہے۔ ابوزرع کی بیٹی، ابوزرع کی بیٹی کے کیا کہنے! اپنے باپ کی فرمانبردار، اپنی ماں کی فرمانبردار، بھاری بھرکم جسم کی مالک اور اپنی پڑوسن کے لیے تاؤ دلانے والی شخصیت۔ ابوزرع کی کنیز، ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے! وہ ہماری باتیں باہر بیان نہیں کرتی اور ہماری اجازت کے بغیر کھانے کی کوئی چیز نہیں کھاتی اور ہمارے گھر میں گندگی اکٹھی نہیں ہونے دیتی۔ اس عورت نے بتایا: ایک دن ابوزرع باہر نکلا، اس وقت برتنوں میں دودھ دوہا جا رہا تھا، ابوزرع کی ملاقات ایک عورت سے ہوئی جس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے جو دو چیتوں کی مانند تھے، وہ اس کے پہلو کے نیچے دو اناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تو ابوزرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔ ابوزرع کے بعد میں نے ایک ایسے شخص کے ساتھ شادی کی جو سردار تھا، شہسوار تھا، سپاہی تھا، اس نے مجھے بہت سی نعمتیں عطا کیں، اس نے مجھے ہر طرح کی نعمت کا جوڑا دیا اور کہا: ام زرع تم کھاؤ اور اپنے میکے والوں کو بھی بھیجو۔ اس نے مجھے جو کچھ دیا اگر میں اس سب کو جمع کروں تو پھر بھی یہ ابوزرع کے چھوٹے برتن تک نہیں پہنچتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں، جس طرح ابوزرع ام زرع کے لیے تھا۔ ہشام بن عمار کہتے ہیں: میں نے عیسیٰ بن یونس سے دریافت کیا: (اس روایت میں استعمال ہونے والے لفظ) «دَأْس» دأس سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: «وَائِس» وائس سے مراد اندر ہے اور «مُنَقّ» منق سے مراد چھلنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7104]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5189، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2448، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7104، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9089، والطبراني فى(الكبير) برقم: 265» «رقم طبعة با وزير 7060»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر شمائل» (ص 134).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥عبد الله بن عروة القرشي، أبو بكر
Newعبد الله بن عروة القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عبد الله بن عروة القرشي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة مأمون
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ
👤←👥مصعب بن سعيد المصيصي، أبو خيثمة
Newمصعب بن سعيد المصيصي ← علي بن حجر السعدي
صدوق يخطئ ويدلس
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← مصعب بن سعيد المصيصي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← هشام بن عمار السلمي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 7104 in Urdu