صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
270. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر البيان بأن معاذ بن جبل كان من أعلم الصحابة بالحلال والحرام-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس بیان کا کہ معاذ بن جبل صحابہ میں حلال و حرام کے سب سے زیادہ عالم تھے
حدیث نمبر: 7131
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِي ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَلا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ أَلْفَاظٌ أُطْلِقَتْ بِحَذْفِ الْ" مِنْ"، مِنْهَا، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْحَمُ أَمَّتِي"، أَيْ: مِنْ أَرْحَمِ أُمَّتِي، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ"، يُرِيدُ: مِنْ أَشَدِّهِمْ، وَمِنْ أَصْدَقِهِمْ حَيَاءً، وَمِنْ أَقْرئِهِمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَمِنْ أَفْرَضِهِمْ، وَمِنْ أَعْلَمِهِمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ، يُرِيدُ أَنَّ هَؤُلاءِ مِنْ جَمَاعَةٍ فِيهِمْ تِلْكَ الْفَضِيلَةُ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ: أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، يُرِيدُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ، مِنْ جَمَاعَةٍ أُحِبُّهُمْ وَهُمْ فِيهِمْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے بارے میں، میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے اور حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے اور اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے۔ علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے۔ حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے، خبردار! ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں حرف ”من“ کو حذف کیا گیا ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے «ارحم امتی» اس سے مراد یہ ہے «من ارحم امتی» اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ يُرِيدُ مِنْ أَشَدِّهِمْ وَمِنْ أَصْدَقِهِمْ حَيَاءً، وَمِنْ أَقْرِئِهِمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَمِنْ أَفْرَضِهِمْ، وَمِنْ أَعْلَمِهِمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ» ۔ نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ جماعت ایسی ہے جس میں یہ فضیلت پائی جاتی ہے اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ہو گی، جو آپ نے انصار سے فرمایا تھا: تم لوگ میرے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ایک ہو اور اس جماعت سے تعلق رکھتے ہو، جن سے میں محبت کرتا ہوں اور وہ لوگ اس میں شامل تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7131]
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں حرف ”من“ کو حذف کیا گیا ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے «ارحم امتی» اس سے مراد یہ ہے «من ارحم امتی» اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ يُرِيدُ مِنْ أَشَدِّهِمْ وَمِنْ أَصْدَقِهِمْ حَيَاءً، وَمِنْ أَقْرِئِهِمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَمِنْ أَفْرَضِهِمْ، وَمِنْ أَعْلَمِهِمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ» ۔ نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ جماعت ایسی ہے جس میں یہ فضیلت پائی جاتی ہے اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ہو گی، جو آپ نے انصار سے فرمایا تھا: تم لوگ میرے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ایک ہو اور اس جماعت سے تعلق رکھتے ہو، جن سے میں محبت کرتا ہوں اور وہ لوگ اس میں شامل تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7131]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7087»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «المشكاة» (6111)، «الصحيحة» (1224).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري