صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
142. باب قراءة القرآن - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبري أبي هريرة اللذين ذكرناهما
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے تأول کردہ ابو ہریرہ کی دو خبروں کی صحت کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 753
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ التَّحَزُّنَ الَّذِي أَذِنَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيهِ بِالْقُرْآنِ، وَاسْتَمَعَ إِلَيْهِ هُوَ التَّحَزُّنُ بِالصَّوْتِ مَعَ بِدَايَتِهِ وَنِهَايَتِهِ، لأَنَّ بَدَاءَتَهُ هُوَ الْعَزْمُ الصَّحِيحُ عَلَى الانْقِلاعِ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ، وَنِهَايَتُهُ وُفُورُ التَّشْمِيرِ فِي أَنْوَاعِ الْعِبَادَاتِ، فَإِذَا اشْتَمَلَ التَّحَزُّنُ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي وَصَفْتُهَا، وَالنِّهَايَةُ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، صَارَ الْمُتَحَزِّنُ بِالْقُرْآنِ كَأَنَّهُ قَذَفَ بِنَفْسِهِ فِي مِقْلاعِ الْقُرْبَةِ إِلَى مَوْلاهُ، وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِشَيْءٍ دُونَهُ.
مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، گریہ و زاری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے یوں آواز آ رہی تھی جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جس دردمندانہ تلاوت کو اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور پوری توجہ سے سنتا ہے، وہ ایسا درد ہے جو آواز میں آغاز اور اختتام کے ہمراہ ہو؛ کیونکہ آغاز یہ ہوتا ہے کہ اس بات کا پختہ ارادہ کیا جائے کہ ممنوعہ چیزوں سے لاتعلقی اختیار کی جائے گی اور انجام یہ ہے کہ مختلف نوعیت کی عبادات میں بھرپور کوشش کی جائے گی، تو جب وہ درد آغاز میں اس کے مطابق ہو جو ہم نے بیان کیا ہے اور اختتام اس کے مطابق ہو جو میں نے ذکر کیا ہے، تو قرآن کے ہمراہ دردمند ہونے والا شخص گویا اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے قرب میں ڈال دیتا ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 900، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 665، 753، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 904، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3408، 3409، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16570» «رقم طبعة با وزير 750»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (840).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، وقد تقدم برقم (665).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 753 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي