صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
217. باب الأذكار - ذكر التسبيح الذي يكون للمرء أفضل من ذكره ربه بالليل مع النهار والنهار مع الليل
اذکار کا بیان - اس تسبیح کا ذکر جو آدمی کے لیے اس کے رب کے دن رات یا رات دن کے ذکر سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 830
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ:" مَاذَا تَقُولُ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟" قَالَ: أَذْكُرُ رَبِّي، قَالَ: " أَلا أُخْبِرُكَ بِأَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِنْ ذِكْرِكَ اللَّيْلَ مَعَ النَّهَارِ وَالنَّهَارَ مَعَ اللَّيْلِ؟ أَنْ تَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا فِي الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا فِي الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ، وَتَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ" .
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے وہ اس وقت اپنے ہونٹوں کو حرکت دے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابوامامہ تم کیا پڑھ رہے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں اپنے پروردگار کا ذکر کر رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے دن کے ہمراہ تمہارے رات بھر ذکر کرنے اور تمہارے رات کے ہمراہ دن بھر ذکر کرنے سے زیادہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) افضل ہوں تم یہ پڑھو: ”میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کے مخلوق کی تعداد کے برابر ہو۔ میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کو بھر دے، میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو آسمان اور زمین کے درمیان والی جگہ کو بھر دے۔ میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اتنی تعداد میں ہو، جس کو اس کی کتاب نے گھیرا ہوا ہے اور میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ہر شے کی تعداد جتنی ہو اور میںاللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ہر چیز کو بھر دے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) الحمدللہ بھی اس کی مانند پڑھو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 830]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 827»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 252 - 253).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، من أجل ابن عجلان وهو محمد، ويحيي بن أيوب: هو الغافقي، وابن أبي مريم هو: سعيد بن الحكم الجمحي المصري.
الرواة الحديث:
محمد بن سعد الزهري ← صدي بن عجلان الباهلي