الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
258. باب الأدعية - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من المواظبة على الدعاء والبر
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ دعا اور نیکی پر دوام کرے
حدیث نمبر: 872
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ، وَلا يُرَدُّ الْقَدْرُ إِلا بِالدُّعَاءِ، وَلا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلا الْبِرُّ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لَمْ يُرِدْ بِهِ عُمُومَهُ، وَذَاكَ أَنَّ الذَّنْبَ لا يَحْرِمُ الرِّزْقَ الَّذِي رُزِقَ الْعَبْدُ، بَلْ يُكَدِّرِ عَلَيْهِ صَفَاءَهُ إِذَا فَكَرَّ فِي تَعْقِيبِ الْحَالَةِ فِيهِ. وَدَوَامُ الْمَرْءِ عَلَى الدُّعَاءِ يُطَيِّبُ لَهُ وُرُودَ الْقَضَاءِ، فَكَأَنَّهُ رَدَّهُ لِقِلَّةِ حِسِّهِ بِأَلَمِهِ، وَالْبِرُّ يُطَيِّبُ الْعَيْشَ حَتَّى كَأَنَّهُ يُزَادُ فِي عُمْرِهِ بِطِيبِ عَيْشِهِ، وَقِلَّةِ تَعَذُّرِ ذَلِكَ فِي الأَحْوَالِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(بعض اوقات) کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے اور تقدیر کو صرف دعا ٹال سکتی ہے اور عمر میں اضافہ صرف نیکی کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں مذکور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد اس کا قوم نہیں ہے۔ یعنی آدمی کے نصیب میں جو رزق لکھا گیا ہے گناہ اس رزق سے محروم نہیں کرتا بلکہ اس کی پاکیزگی کو گدلا کر دیتا ہے۔ جب وہ اس کے بارے میں حالت کے بعد کی صورتحال میں غور و فکر کرتا ہے، اور آدمی کا ہمیشہ دعا کرتے رہنا۔ اس کے لئے تقدیر کے فیصلے کو قابل قبول بنا دیتا ہے۔ گویا وہ اس کی تکلیف کو کم محسوس کرتے ہوئے اس کو پرے کر دیتا ہے، اور نیکی آدمی کی زندگی کو پاکیزہ کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کی زندگی کے آرام کی وجہ سے اس کی عمر میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اور عام طور پر یہ چیزیں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 869»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره دون أوله: «إن الرجل ... يصيبه» - «الصحيحة» (154).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن، عبد الله بن أبي الجعد: ذكره المؤلف في "الثقات" 5/ 20، وروى عنه اثنان، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين. أبو خيثمة: هو زهير بن حرب.
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي الجعد الغطفاني ← ثوبان بن بجدد القرشي