پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. ذكر وصف العلماء الذين لهم الفضل الذي ذكرنا قبل-
- ان علما کی صفات کا ذکر جنہیں وہ فضیلت حاصل ہے جس کا پہلے ذکر کیا گیا۔
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ فِي حَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ، أَمَا جِئْتَ لِتِجَارَةٍ، أَمَا جِئْتَ إِلا لِهَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا، سَلَكَ الِلَّهِ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَالْمَلائِكَةُ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ، وَمَنْ فِي الأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ، كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلا دِرْهُمَا، وَأَوْرَثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ الْعُلَمَاءَ الَّذِينَ لَهُمُ الْفَضْلُ الَّذِي ذَكَرْنَا، هُمُ الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ عِلْمَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دُونَ غَيْرِهِ مِنْ سَائِرِ الْعُلُومِ، أَلا تَرَاهُ يَقُولُ:" الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ" وَالأَنْبِيَاءُ لَمْ يُوَرِّثُوا إِلا الْعِلْمَ، وَعِلْمُ نَبِيِّنَا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّتُهُ، فَمَنْ تَعَرَّى عَنْ مَعْرِفَتِهَا لَمْ يَكُنْ مِنْ وَرَثَةِ الأَنْبِيَاءِ.
کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں: میں مسجد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا ابودرداء! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ ایک حدیث کے بارے میں (دریافت کرنے کے لئے) مجھے یہ پتہ چلا ہے، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم کسی اور کام کے سلسلے میں نہیں آئے؟ کیا تم تجارت کے لئے نہیں آئے؟ کیا تم صرف اس حدیث کے لئے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص علم کے حصول کے راستے پر چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے، اس شخص کو جنت کے راستے پر چلاتا ہے، اور طالب علم سے خوش ہو کر، فرشتے اپنے پر اس پر بچھا دیتے ہیں۔ بے شک عالم شخص کے لئے آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز، یہاں تک کہ پانی میں موجود مچھلیاں، بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں اور عالم شخص کو عبادت گزار شخص پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہوتی۔ بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء، وراثت میں دینار یا درہم نہیں چھوڑتے ہیں۔ وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں، جو شخص اسے حاصل کر لیتا ہے۔ وہ بڑا حصہ حاصل کرتا ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ہم نے جس فضیلت کا ذکر کیا ہے یہ ان علماء کو حاصل ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی تعلیم دیتے ہیں، انہیں حاصل نہیں ہو گی جو دوسرے علوم سکھاتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔“ تو انبیاء وراثت میں صرف علم چھوڑتے ہیں اور ہمارے نبی کا علم آپ کی سنت ہے۔ جو شخص اس کی معرفت سے بے بہرہ ہو گا وہ انبیاء کا وارث نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 88]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ہم نے جس فضیلت کا ذکر کیا ہے یہ ان علماء کو حاصل ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی تعلیم دیتے ہیں، انہیں حاصل نہیں ہو گی جو دوسرے علوم سکھاتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔“ تو انبیاء وراثت میں صرف علم چھوڑتے ہیں اور ہمارے نبی کا علم آپ کی سنت ہے۔ جو شخص اس کی معرفت سے بے بہرہ ہو گا وہ انبیاء کا وارث نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 88، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3641، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2682، والدارمي فى (مسنده) برقم: 354، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 223، 239، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22129، 22130، والبزار فى (مسنده) برقم: 4145 م، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 982»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 53).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن، إسناده ضعيف لضعف داود بن جميل - ويقال: الوليد بن جميل - وكثير بن قيس - ويقال: قيس بن كثير- والأول أكثر.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 88 in Urdu
كثير بن قيس الشامي ← عويمر بن مالك الأنصاري