صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
270. باب الأدعية - ذكر الأمر بالاستخارة إذا أراد المرء أمرا قبل الدخول عليه
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اگر آدمی کوئی کام شروع کرنے سے پہلے استخارہ کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 885
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلأَمْرِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَأَعِنِّي عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلأَمْرِ الَّذِي يُرِيدُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، ثُمَّ اقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، تو وہ یہ دعا مانگے۔“ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوں اور میں تیری قدرت کے مطابق تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں میں تیرے عظیم فضل کی دعا کرتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ معاملہ ایسے، ایسے، ہے۔ یہاں آدمی اس کام کا نام لے جو وہ کرنا چاہتا ہے، اگر یہ میرے لئے میرے دین میری زندگی اور آخرت کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اسے میرے لئے مقدر کر دے اور اسے میرے لئے آسان کر دے اور میری مدد کر اور اگر یہ معاملہ، یہاں آدمی کام کا نام لے، میری زندگی اور میرے دین، میرے حق میں برا ہے، تو مجھے اس سے پھیر دے اور مجھے بھلائی کی قدرت عطا کر، وہ جہاں کہیں بھی ہو، تیری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 885]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 882»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر - «الضعيفة» (2305).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن عيسى بن عبد الله بن مالك، وثقه المؤلف، وروي عنه جمع، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير علي بن المديني، فمن رجال البخاري.
الرواة الحديث:
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري