صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
283. باب الأدعية - ذكر الأمر بما يجب على المرء من الدعاء قبل هداية الله إياه للإسلام وبعده
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی ہدایت سے پہلے اور بعد میں دعا کرے
حدیث نمبر: 899
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ خَيْرٌ لِقَوْمِهِ مِنْكَ، كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ، فَقَالَ لَهُ: مَا شَاءَ اللَّهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ، قَالَ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: " قُلِ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي". فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي، فَقُلْتَ:" اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي" فَمَا أَقُولُ الآنَ حِينَ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ، وَمَا عَمَدْتُ، وَمَا جَهِلْتُ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے مقابلے میں جناب عبدالمطلب قوم کے حق میں زیادہ بہتر تھے۔ وہ انہیں کھانے کے لئے (اونٹوں کے) جگر اور کوہان دیا کرتے تھے جبکہ آپ انہیں ذبح کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی جو اللہ کو منظور تھا وہ اس نے کہا: جب وہ واپس جانے لگا، تو اس نے دریافت کیا: میں کیا پڑھا کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھا کرو۔ ”اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت یافتہ معاملے پر پختہ کر دے۔“ پھر وہ شخص چلا گیا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ (کچھ عرصے بعد وہ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آیا تھا۔ میں نے یہ عرض کی تھی کہ آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجئے تو آپ نے یہ کہا: تھا۔ ”اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کر دے۔“ اب جب میں نے اسلام قبول کر لیا، تو پھر میں کیا کہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو۔ ”اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کر دے، اے اللہ! جو کچھ میں نے پوشیدہ طور پر کیا یا اعلانیہ طور پر کیا، جو کچھ میں نے غلطی سے کیا، جو کچھ جان بوجھ کے کیا اور جو کچھ بھی لا علمی سے کیا، ان سب کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 896»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (2476).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عثمان، فمن رجال البخاري.
الرواة الحديث:
ربعي بن حراش العبسي ← عمران بن حصين الأزدي