🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
375. باب الأدعية - ذكر ما يدعو المرء به عند وجود الجدب بالمسلمين
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی مسلمانوں پر قحط پڑنے کے وقت کیا دعا مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 991
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَحْطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ. اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلاغًا إِلَى حِينٍ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا، فَرَعَدَتْ، وَأَبْرَقَتْ، وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کے بارے میں حکم دیا، اسے عید گاہ میں رکھ دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ لوگ اس دن نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورج کی ٹکیہ ظاہر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے باغات کے خشک ہو جانے کی اور طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۞ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۞ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ”تمام حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے،“ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ» ”اے اللہ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے،“ «اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”اے اللہ! تو ہی اللہ ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم غریب ہیں، تو ہم پر بارشیں نازل کر اور ہم پر جو چیز تو نازل کرے گا اسے مخصوص مدت کے لیے قوت اور بلاغ بنا دے۔““ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھ لی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت لوگوں کی طرف کر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو الٹا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے اتر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کی، تو اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کر دیا، وہ گرجا، بجلی چمکی اور اللہ کے حکم سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مسجد (یعنی عید گاہ) میں ہی تھے کہ نالیاں بہنے لگیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی کہ لوگوں نے اپنے اوپر کپڑے کر لیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 991، 2860، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1229، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6501، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1906، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5404» «رقم طبعة با وزير 987»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1046). * [لثق] قال الشيخ: قلت: في «الأصل»: «لبق»، والتصحيح من «الموارد» وغيره. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥القاسم بن مبرور الأيلي
Newالقاسم بن مبرور الأيلي ← يونس بن يزيد الأيلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥خالد بن نزار الغساني، أبو يزيد
Newخالد بن نزار الغساني ← القاسم بن مبرور الأيلي
ثقة
👤←👥طاهر بن خالد الغساني، أبو الطيب
Newطاهر بن خالد الغساني ← خالد بن نزار الغساني
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 991 in Urdu