🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
102. صنيع الصلاة بعد التشهد
تشہد کے بعد نماز کے طریقۂ عمل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا بِشْر بن عمر الزَّهْراني. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس؛ قالا: حدثنا شُعْبة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبي عُبَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: أنه كان في الركعتين الأُولَييَنِ كأنه على الرَّضْف. قال: قلنا حتى يقومَ؟ قال: حتى يقومَ (1) . تابعه مِسعَرٌ عن سعد بن إبراهيم:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کی) پہلی دو رکعتوں میں (تشہد کے لیے) اس طرح (تیزی سے) بیٹھتے تھے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تپتے ہوئے پتھروں پر بیٹھے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے پوچھا، کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔
مسعر نے بھی اسے سعد بن ابراہیم سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1006]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1006 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده رجاله عن آخرهم لا بأس بهم غير عبد الرحمن بن الحسن الأسدي شيخ المصنف في أحد طريقيه فإنه ضعيف، وهو متابع، وأبو عبيدة -وهو ابن عبد الله بن مسعود- لم يصحَّ له سماعٌ من أبيه، فهو منقطع. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں سوائے عبدالرحمن الاسدی کے جو ضعیف ہیں، مگر ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سند "منقطع" ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3656) و 7/ (3895) و (4155)، وأبو داود (995)، والترمذي (366) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. قال الترمذي: هذا حديث حسن، إلّا أنَّ أبا عبيدة لم يسمع من أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (995) اور ترمذی (366) نے شعبہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے بھی اس کے انقطاع کی طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 7/ (4388 - 4390)، والنسائي (766) من طريق إبراهيم بن سعد بن إبراهيم، عن أبيه، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (766) نے ابراہیم بن سعد کی سند سے روایت کیا ہے۔
الرَّضْف: الحجارة المُحْماة بالشمس أو بالنار.
📝 (توضیح): "الرَّضْف" سے مراد وہ پتھر ہیں جو سورج یا آگ کی تپش سے گرم ہو چکے ہوں۔
قال الترمذي: والعمل على هذا عند أهل العلم: يختارون أن لا يطيل الرجلُ القعودَ في الركعتين الأُوليين، ولا يزيد على التشهُّد شيئًا في الركعتين الأُوليين، وقالوا: إن زاد على التشهد فعليه سجدتا السهو، هكذا رُوِيَ عن الشعبي وغيره.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کے نزدیک پہلے دو رکعتوں کے تشہد کو لمبا نہیں کرنا چاہیے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے (یعنی صرف التحیات پڑھی جائے)۔