المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
105. لا صلاة لمن لم يمس أنفه الأرض
اس شخص کی نماز نہیں جس نے اپنی ناک زمین پر نہ لگائی۔
حدیث نمبر: 1010
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا إبراهيم بن عبد السلام الضَّرير، حدثنا الجرَّاح بن مَخلَد، حدثنا أبو قُتيبة، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن عاصم الأحوَل، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا صلاةَ لمن لم يُمِسَّ أنفَه الأرضَ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وقد أوقَفَه شعبةُ عن عاصم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 997 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وقد أوقَفَه شعبةُ عن عاصم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 997 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز (کامل) نہیں جس کی ناک زمین کو نہ لگے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ شعبہ نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1010]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ شعبہ نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1010]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1010 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) روي هذا الحديث موصولًا ومرسلًا، والصواب إرساله كما قال الترمذي وغيره، وأبو قتيبة -وهو سَلْم بن قتيبة- مع ثقته له أوهام، قال أبو حاتم الرازي: ليس به بأس كثير الوهم. قلنا: وقد اختلف عليه في رفعه ووقفه كما في الرواية التالية عند المصنف، فكأنَّ الوهم منه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، مگر راجح یہ ہے کہ یہ "مرسل" ہے جیسا کہ امام ترمذی نے کہا۔ ابوقتيبة (سلم بن قتیبہ) ثقہ ہونے کے باوجود وہم کر جاتے تھے۔
وأخرجه الدارقطني (1318) و (1319)، ومن طريقه البيهقي 2/ 104 عن أبي بكر عبد الله ابن سليمان بن الأشعث، عن الجراح بن مخلد، عن أبي قتيبة، عن شعبة وسفيان، عن عاصم الأحول، به -موصولًا مرفوعًا. قال الدارقطني: قال لنا أبو بكر: لم يُسنده عن سفيان وشعبة إلّا أبو قتيبة، والصواب عن عاصم مرسلًا. ¤ ¤ وتابع الجراحَ بنَ مخلد عليه هكذا موصولًا: سليمانُ بن عبيد الله الغيلاني، عن أبي قتيبة. أخرجه البيهقي أيضًا 2/ 104.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی اور بیہقی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، مگر امام دارقطنی نے واضح کیا کہ صواب (درست) اسے عاصم سے "مرسل" روایت کرنا ہی ہے۔
وخالف أبا قتيبة الحسينُ بنُ حفص فرواه عن سفيان الثوري عن عاصم الأحول عن عكرمة عن النبي ﷺ مرسلًا. أخرجه البيهقي 2/ 104، والحسين بن حفص ثقة جليل وكان من المختصِّين بسفيان الثوري كما قال أبو نعيم الأصبهاني، وقال البيهقي بإثر روايته: وكذلك رواه سفيان بن عيينة وعبدة بن سليمان عن عاصم الأحول عن عكرمة مرسلًا.
⚠️ سندی اختلاف: حسین بن حفص (جو سفیان ثوری کے خاص شاگرد ہیں) نے اسے عاصم عن عکرمہ سے "مرسل" روایت کیا ہے، اور سفیان بن عیینہ نے بھی اسی طرح مرسل بیان کیا ہے۔
قلنا: ورواية عبدة بن سليمان أخرجها الترمذي في كتابه "العلل الكبير" (101) عن هناد بن السَّري عنه، وهما ثقتان، وأما رواية سفيان بن عيينة فلم نقف عليها مسنَدة.
🔍 فنی نکتہ: عبدہ بن سلیمان کی مرسل روایت امام ترمذی نے "العلل الکبیر" میں ذکر کی ہے، اور یہ دونوں (عبدہ اور ہناد) ثقہ ہیں۔
ثم أخرجه الترمذي (102) -وكذا أبو نعيم في "أخبار أصبهان" 1/ 192 - 193 - من طريق حرب ابن ميمون، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: أتى النبي ﷺ على رجل يسجد على جبهته ولا يضع أنفه على الأرض، قال: "ضع أنفك يسجدْ معك" ثم قال الترمذي: وحديث عكرمة عن النبي ﷺ -يعني مرسلًا- أصحُّ. قلنا: وحرب بن ميمون -وهو الأصغر- متروك.
⚖️ درجۂ حدیث: ترمذی نے خالد الحذاء عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے سجدے میں ناک زمین پر نہ رکھنے والے کو ٹوکا، مگر عکرمہ کی مرسل روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔ حرب بن میمون "متروک" راوی ہے۔
وأخرج الطبراني في "الكبير" (11917)، و"الأوسط" (4111)، وابن المقرئ في "معجمه" (427) من طريق الضحاك بن حُمرة، عن منصور -وهو ابن زاذان- عن عاصم البجلي، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال: "من لم يلزق أنفه مع جبهته بالأرض إذا سجد لم تُجْزِ صلاته"، وعاصم البجلي قال الطبراني: هو عاصم بن سليمان الأحول. قلنا: والضحاك بن حُمرة ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: طبرانی نے ضحاک بن حمرہ (جو ضعیف ہے) کی سند سے اسے روایت کیا ہے کہ سجدے میں ناک زمین پر نہ لگی تو نماز نہیں ہوتی۔
وأخرجه البيهقي 2/ 104 من طريق إبراهيم بن طهمان، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس أنه قال: إذا سجدت فضع أنفك على الأرض مع جبهتك. وهذا إسناد حسن لولا ما قيل في رواية سماك عن عكرمة أنه وقع له فيها اضطراب.
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن طہمان نے سماک بن حرب عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے اسے نقل کیا ہے، یہ سند "حسن" ہے اگرچہ سماک کی عکرمہ سے روایات میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
وفي الباب عن أبي حميد الساعدي في صفة صلاة النبي ﷺ، وقال فيها: ثم سجد -يعني النبي ﷺ فأمكن أنفه وجبهته. أخرجه أبو داود (734)، والترمذي (270) وقال: حسن صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: ابوحمید الساعدی کی حدیث (ترمذی 270) اس پر گواہ ہے کہ نبی ﷺ سجدے میں ناک اور پیشانی کو زمین پر جماتے تھے۔
وعن وائل بن حُجْر قال: رأيت رسول الله ﷺ يسجد على الأرض واضعًا جبهته وأنفه في سجوده. أخرجه أحمد 31/ (18864)، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو پیشانی اور ناک پر سجدہ کرتے دیکھا (مسند احمد 18864/31)۔
وفي حديث طاووس عن ابن عباس عند البخاري (812)، قال: قال النبي ﷺ: "أُمرت أن أسجد على سبعة أعظم: على الجبهة -وأشار بيده على أنفه- واليدين والركبتين وأطراف القدمين .. ". فهذا كلُّه يدلِّل على تأكيد وضع الأنف مع الجبهة على الأرض في السجود وأنه من تمام السجود.
🧩 متابعات و شواہد: صحیح بخاری (812) کی حدیث کہ "مجھے سات ہڈیوں پر سجدے کا حکم ہوا" جس میں آپ ﷺ نے پیشانی کے ساتھ ناک کی طرف بھی اشارہ فرمایا، اس بات کی دلیل ہے کہ ناک زمین پر رکھنا سجدے کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔