🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. قضاء سنة الفجر بعد الفرض
فرض کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1030
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن أبيه، عن جدِّه: أنه جاء والنبيُّ ﷺ يصلِّي صلاةَ الفجر فصلَّى معه، فلما سَلَّمَ قام فصلَّى ركعتي الفجر، فقال: له النبي ﷺ:"ما هاتانِ الرَّكعتانِ؟" فقال: لم أكن صلَّيتُهما قبلَ الفجر، فَسَكَتَ ولم يقل شيئًا (1) . قيس بن قَهْد الأنصاري صحابي، والطريق إليه صحيح على شرطهما. وقد رواه محمد بن إبراهيم التيمي عن قيس بن قَهْد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1017 - قيس بن فهد صحابي وله شاهد
قیس بن قہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آئے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر پڑھا رہے تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور فجر کی دو (سنت) رکعتیں پڑھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے انہیں فجر سے پہلے نہیں پڑھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہیں فرمایا۔
قیس بن قہد انصاری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور ان تک پہنچنے والی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اسے محمد بن ابراہیم تیمی نے بھی قیس بن قہد سے روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1030]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1030 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين، سعيد بن قيس والد يحيى روى عنه ابناه يحيى هذا وسعد بن سعيد فيما قال أبو حاتم كما في "الجرح والتعديل" 4/ 55 - 56، وذكره ابن حبان في "الثقات" 4/ 281. وأبوه قيس: هو قيس بن عمرو بن سهل الأنصاري في قول الجمهور، وليس هو قيس ابن قهد كما سيذكر المصنف، وهو قول مصعب الزبيري من القدماء خلافًا لغيره من أهل العلم، وأغربَ ابن حبان -كما قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة"- فجمع بين الاختلاف بأنه قيس ابن عمرو وقهدٌ لقب عمرو.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند تحسین (حسن ہونے) کے قابل ہے۔ یحییٰ کے والد سعید بن قیس ثقہ ہیں (ابن حبان 281/4)۔ ⚠️ سندی اختلاف: جمہور کے نزدیک یہ قیس بن عمرو ہیں، مصعب زبیری کے نزدیک قیس بن قہد ہیں۔ ابن حجر نے کہا کہ "قہد" ان کے والد عمرو کا لقب تھا۔
والحديث أخرجه ابن حبان (1563) و (2471) من طرق عن الربيع بن سليمان بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابن حبان (1563، 2471) نے ربیع بن سلیمان کے طریقوں سے اسے روایت کیا ہے۔
وقد أخرج هذا الحديث ابن خزيمة في "صحيحه" (1116) من طريق أسد بن موسى واستغربه، وكذا استغربه ابن منده -فيما نقله عنه ابن حجر في "الإصابة" 5/ 373 - وقال: تفرَّد ¤ ¤ به أسد موصولًا، وقال غيره عن الليث عن يحيى مرسلًا، والله أعلم. وانظر تعليقنا على "مسند أحمد" 39/ (23760). وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: ابن خزیمہ (1116) نے اسد بن موسیٰ کی سند سے اسے روایت کیا اور "غریب" قرار دیا۔ ابن مندہ نے کہا کہ اسد اسے موصولاً (نبی ﷺ تک) بیان کرنے میں منفرد ہیں جبکہ دیگر نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔ (مسند احمد 23760/39)۔
وأخرجه عبد الرزاق (4016)، وعنه أحمد (23761) عن ابن جريج، عن عبد ربِّه بن سعيد أخي يحيى بن سعيد، عن جدِّه مرسلًا. ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (4016) اور احمد نے ابن جریج عن عبد ربہ عن جدہ کی سند سے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔