المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
118. سجدة الشكر
سجدۂ شکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1038
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة بن الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو سَلَمة موسى بن إسماعيل. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا خالد بن خِدَاش؛ قالوا: حدثنا بكَّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا أَتاه أمرٌ يَسُرُّه -أو يُسَرُّ به- خَرَّ ساجدًا شُكرًا لله ﷿ (1) .
هذا حديث صحيح، وإن لم يخرجاه، فإنَّ بكَّار بن عبد العزيز صدوقٌ عند الأئمة! وإنما لم يخرجاه لشرطهما في الرواية كما ذكرناه فيما تقدَّم، وليس لعبد العزيز بن أبي بَكْرة راوٍ غيرُ ابنه بَكَّار، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1025 - صحيح_x000D_ كِتَابُ الْجُمُعَةِ
هذا حديث صحيح، وإن لم يخرجاه، فإنَّ بكَّار بن عبد العزيز صدوقٌ عند الأئمة! وإنما لم يخرجاه لشرطهما في الرواية كما ذكرناه فيما تقدَّم، وليس لعبد العزيز بن أبي بَكْرة راوٍ غيرُ ابنه بَكَّار، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1025 - صحيح_x000D_ كِتَابُ الْجُمُعَةِ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوتی -یا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے- تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر جاتے۔
یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ بکار بن عبدالعزیز ائمہ کے نزدیک صدوق ہیں، ان دونوں نے اسے اپنی شرطِ روایت کی وجہ سے نہیں لیا، اور عبدالعزیز بن ابوبکرہ سے ان کے بیٹے بکار کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1038]
یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ بکار بن عبدالعزیز ائمہ کے نزدیک صدوق ہیں، ان دونوں نے اسے اپنی شرطِ روایت کی وجہ سے نہیں لیا، اور عبدالعزیز بن ابوبکرہ سے ان کے بیٹے بکار کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1038]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1038 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وفي إسناده ضعف من أجل بكّار بن عبد العزيز، لكنه يُعتبَر به في المتابعات والشواهد، وحديثه هذا في سجود الشكر له ما يشهد له من حديث غير واحد من الصحابة ذكرناها في تعليقنا على "مسند أحمد" 34/ (20455) و"سنن أبي داود" (2774).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ بکار بن عبدالعزیز اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعت میں معتبر ہیں۔ سجدہ شکر کے بارے میں اس کے کئی شواہد موجود ہیں (مسند احمد 20455/34 وغیرہ)۔
وأما حديث بكار هذا فقد أخرجه أبو داود (2774)، وابن ماجه (1394)، والترمذي (1578) من طرق عن أبي عاصم -وهو الضحاك بن مخلد- بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب لا نعرفه إلّا من هذا الوجه من حديث بكار بن عبد العزيز، والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم: رأَوا سجدة الشكر، وبكّار بن عبد العزيز بن أبي بكرة مقارِب الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2774)، ابن ماجہ (1394) اور ترمذی (1578) نے ابوعاصم (الضحاک بن مخلد) کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا اور فرمایا کہ اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
وسيأتي بأطول ممّا هنا عند المصنف برقم (7983).
🔁 تکرار: یہ آگے تفصیلاً نمبر (7983) پر آئے گی۔
حدیث نمبر: 1038M
حدثني الحسين بن محمد الماسَرْجِسي، حدثنا محمد بن سليمان بن فارس، حدثنا إسحاق بن منصور قال: سألتُ يحيى بنَ مَعِين عن بكَّار بن عبد العزيز ابن أبي بَكْرة، فقال: صالح الحديث (2) . ولهذا الحديث شواهد يَكثُر ذِكرُها: منها: أنه ﷺ رأَى القِردَ فخَرَّ ساجدًا (1) . ومنها: أنه ﷺ رأى رجلًا به زَمَانةٌ فخرَّ ساجدًا (2) . ومنها: أنه ﷺ أتاه جعفرُ بن أبي طالب عند فتح خيبَرَ فخَرَّ ساجدًا (3) . ومنها: أنه ﷺ رأى نُغَاشًا فخَرَّ ساجدًا (4) . [كتاب الجمعة]
یحییٰ بن معین سے بکار بن عبدالعزیز بن ابوبکرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ صالح الحدیث ہیں۔ اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک «قِرْدَ» دیکھا تو سجدے میں گر گئے، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معذور شخص کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے، ایک یہ کہ فتحِ خیبر کے موقع پر جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گر گئے، اور ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بونے (ٹھنگنے شخص) کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1038M]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1038M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وخالف إسحاق بنَ منصور أبو بكر بنُ أبي خيثمة وعباسٌ الدُّوري فذكرا عن ابن معين أنه قال فيه: ليس حديثه بشيء.
👤 راوی پر جرح: (2) اسحاق بن منصور کی مخالفت ابن ابی خیثمہ اور عباس دوری نے کی ہے، انہوں نے ابن معین سے نقل کیا کہ بکار کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(1) أخرجه ابن حبان في "المجروحين" 3/ 136، والطبراني في "الأوسط" (4541)، وابن عدي في "الكامل" 7/ 155 من حديث يوسف بن محمد بن المنكدر، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله. وإسناده ضعيف جدًا من أجل يوسف بن محمد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اسے ابن حبان، طبرانی اور ابن عدی نے یوسف بن محمد المنکدر کی سند سے روایت کیا ہے، مگر یوسف کے شدید ضعف کی وجہ سے یہ سند "انتہائی ضعیف" ہے۔
(2) أخرجه الطبراني في "الأوسط" (5272)، والبيهقي في "السنن" 2/ 371 من حديث مسعر، عن أبي عون محمد بن عبيد الله، عن عَرفجة، وعرفجة هذا قيل: هو السلمي التابعي، فعلى هذا فهو مرسل. وقد اختُلف فيه على مسعر كما ذكر الدارقطني في "العلل" 1/ 288 (78) وصحَّح أنه من حديث يحيى بن الجزّار عن أبي بكر الصديق موقوفًا عليه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اسے طبرانی اور بیہقی نے مسعر عن ابی عون کی سند سے روایت کیا ہے، مگر یہ "مرسل" ہے، اور دارقطنی نے اسے حضرت ابوبکر پر "موقوف" ہونا صحیح قرار دیا ہے۔
والزَّمانة: المرض الذي يدوم في صاحبه زمانًا طويلًا.
📝 (توضیح): "الزمانۃ" سے مراد وہ بیماری ہے جو انسان کے ساتھ لمبے عرصے تک رہے۔
(3) لم نقف عليه.
🔍 فنی نکتہ: (3) یہ روایت ہمیں دستیاب نہیں ہو سکی۔
(4) أخرجه عبد الرزاق (5960)، والدارقطني في "سننه" (1528)، والبيهقي 2/ 371 من حديث جابر الجعفي، عن أبي جعفر محمد بن علي، عن النبي ﷺ مرسلًا. وهو على إرساله فيه جابر الجعفي، وهو ضعيف، وبعضهم يقول فيه: متروك.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اسے عبدالرزاق، دارقطنی اور بیہقی نے جابر الجعفی (جو متروک ہے) کے طریق سے "مرسل" روایت کیا ہے، لہٰذا یہ ثابت نہیں۔
والنُّغَاش، ويقال: النَّغّاش، والنُّغَاشي: هو الرجل القصير الضعيف الحركة.
📝 (توضیح): "النغاش" یا "نغاش" سے مراد وہ پست قد (بونا) آدمی ہے جس کی حرکات و سکنات کمزور ہوں۔