المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. ست ركعات بعد الجمعة
جمعہ کے بعد چھ رکعت نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1086
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عبد الله بن وَدِيعة (2) ، عن أبي ذَرٍّ، عن النبي ﷺ قال:"مَن اغتسل يومَ الجمعة فأحسن الغُسلَ، وتطهَّر فأحسن الطُّهور، ولَبِس من خير ثيابه، ومسَّ ما كَتَبَ الله له من طِيبِ أو دُهنِ أهله، ولم يفرِّقْ بين اثنين، إلّا غُفِرَ له إلى الجمعة الأخرى" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1074 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1074 - على شرط مسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب اچھی طرح غسل کیا، اور پاکیزگی حاصل کی اور بہترین طریقے سے طہارت کی، اور اپنے بہترین کپڑے پہنے، اور اللہ نے اس کے لیے جو خوشبو یا اپنے گھر والوں کا تیل مقدر کیا ہو اسے لگایا، اور (مسجد میں) دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کی (یعنی صف چیر کر آگے نہ جائے)، تو اس کے لیے اگلے جمعہ تک (کے گناہ) معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1086]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سعيد بن أبي سعيد المقبري، فرواه ابن عجلان، عنه كما هنا فجعله من حديث أبي ذر، ورواه ابن أبي ذئب عنه بالإسناد نفسه لكن جعله من حديث سلمان الفارسي، وهو المحفوظ، قال الدارقطني في "العلل": والحديث عندي حديث ابن أبي ذئب، لأنَّ ...» [ترقيم الرساله 1086] [ترقيم الشركة 1078] [ترقيم العلميه 1074]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1086 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا وقع في رواية المصنف - ومن طريقه رواه هكذا قوام السنة الأصبهاني في "الترغيب والترهيب" (916) -: سعيد بن أبي سعيد عن عبد الله بن وديعة، لم يُذكر فيه أبو سعيد بين سعيد وابن وديعة، وقد ذكر الدارقطني في "العلل" (2045) أنَّ يحيى بن سعيد القطان عن ابن عجلان قال فيه: عن أبيه، وهو كذلك في مصادر التخريج من رواية يحيى القطان. أما سفيان بن عيينة فقد رواه عن ابن عجلان واختلف عليه فلم يقل مرةً: عن أبيه، وقال مرة: أُراه عن أبيه، كما سيتبين في التخريج.
🔍 علّت / فنی نکتہ: (2) حاکم کی اس روایت میں "ابوسعید" کا نام گر گیا ہے، درست "سعيد عن ابیہ عن ابن ودیعہ" ہے جیسا کہ دارقطنی نے یحییٰ القطان کی روایت کے حوالے سے تصحیح کی ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سعيد بن أبي سعيد المقبري، فرواه ابن عجلان ¤ ¤ عنه كما هنا فجعله من حديث أبي ذر، ورواه ابن أبي ذئب عنه بالإسناد نفسه لكن جعله من حديث سلمان الفارسي، وهو المحفوظ، قال الدارقطني في "العلل": والحديث عندي حديث ابن أبي ذئب، لأنَّ للحديث أصلًا محفوظًا عن سلمان يرويه أهل الكوفة. وقال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 3/ 605 - 606: فأما ابن عجلان فهو دون ابن أبي ذئب في الحفظ فروايته مرجوحة، مع أنه يحتمل أن يكون ابن وديعة سمعه من أبي ذر وسلمان جميعًا، ويرجح كونه عن سلمان وروده من وجه آخر عنه. انتهى. قلنا ورجح أبو زرعة كما في "علل ابن أبي حاتم" (581) حديث ابن عجلان، ورجح أبو حاتم حديث ابن أبي ذئب لأنه متابع، ونقل عن يحيى بن معين قوله: ابن أبي ذئب أثبت في المقبري من ابن عجلان.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) حدیث صحیح ہے مگر ⚠️ سندی اختلاف: ابن عجلان نے اسے "عن ابی ذر" کہا جبکہ ابن ابی ذئب نے اسے "عن سلمان الفارسی" روایت کیا ہے؛ دارقطنی اور ابن حجر کے نزدیک محفوظ روایت حضرت سلمان ہی کی ہے، کیونکہ اس کی دیگر کوافی (کوفہ کے راویوں سے) تائید ہوتی ہے۔
يحيى بن سعيد: هو القطان، وابن عجلان: اسمه محمد.
🔍 فنی نکتہ: یحییٰ سے مراد القطان اور ابن عجلان سے مراد محمد ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21539)، وابن ماجه (1097)، والدارقطني في "العلل" (2045) من طرق عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (21539/35) اور ابن ماجہ (1097) نے یحییٰ القطان کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (5589)، والحميدي (138) عن سفيان بن عيينة، وأحمد (21569) من طريق الليث بن سعد عن ابن عجلان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق، حمیدی اور احمد نے ابن عجلان کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
ولم يذكر عبد الرزاق في روايته عن سفيان أبا سعيد المقبري، وقال الحميدي عنه: أُراه عن أبيه؛ على الظن.
🔍 فنی نکتہ: سفیان بن عیینہ کی روایت میں ابوسعید المقبری کا نام نہیں ہے اور حمیدی نے اسے "عن ابیہ" شک کے ساتھ کہا ہے۔
أما حديث سلمان الفارسي فقد أخرجه أحمد 39/ (23710) و (23725)، والبخاري (883) و (910)، وابن حبان (2776) من طريق ابن أبي ذئب عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبيه، عن عبد الله بن وديعة عنه.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت سلمان فارسی کی روایت احمد (23710/39)، بخاری (883) اور ابن حبان (2776) میں ابن ابی ذئب کے طریق سے موجود ہے۔
وأخرجه أحمد (23718) و (23729)، والنسائي (1677) و (1737) من طريق قرثع الضبي، عن سلمان الفارسي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی نے قرثع الضبی عن سلمان الفارسی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وخالف ابنَ عجلان وابنَ أبي ذئب صالحُ بن كيسان، فأخرجه من طريقه ابن خزيمة (1803)، والبيهقي 3/ 243 عن سعيد المقبري، عن أبيه، عن أبي هريرة. وصالح بن كيسان ثقة، لكن قال أبو زرعة وأبو حاتم - كما في "العلل" لابنه (581) -: هذا خطأ.
⚠️ سندی اختلاف: صالح بن کیسان نے اسے "عن ابی ہریرہ" روایت کیا ہے (ابن خزیمہ 1803)؛ مگر ابوذرعہ اور ابوحاتم نے اسے "خطاء" قرار دیا ہے۔
وفي الباب عن أبي هريرة وأبي سعيد معًا، سلف برقم (1057)، وذكرنا هناك تتمة شواهده.
🧩 متابعات و شواہد: ابوہریرہ اور ابوسعید دونوں سے یہ روایت نمبر (1057) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1086 in Urdu