🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. لا يصلى قبل العيد ولا بعدها
عید کی نماز سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1108
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهانيُّ الزاهد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن عَبْدَة، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ صلى قبل الخُطبة في يومِ عيد (1) . هذا لفظ حديث أحمد بن عَبْدةَ، وفي حديث سليمان تقصير.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1096 - على شرطهما
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔
یہ احمد بن عبدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جبکہ سلیمان کی روایت میں اختصار ہے، یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح سے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1108]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1108 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. محمد بن إسحاق: هو ابن خزيمة الإمام المشهور صاحب التصانيف، وأحمد بن عبدة: هو الضبي، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: محمد بن اسحاق سے مراد امام ابن خزیمہ، ایوب سے مراد السختیانی اور عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه مسلم (884) (2) عن أبي الربيع الزهراني، وأبو داود (1144) عن محمد بن عبيد بن حساب الغُبَري، كلاهما عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد. ولم يذكرا لفظه، وإنما بنحو ما ذكراه قبله بلفظ: عن ابن عباس قال: أشهد على رسول الله ﷺ لصلى قبل الخطبة، قال: ثم خطب … الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (884/2) اور ابوداؤد (1144) نے حماد بن زید کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے خطبے سے پہلے نماز پڑھی۔
وأخرج نحوه أحمد 3/ (1902) و (1983)، والبخاري (1449)، ومسلم (884) (2)، وأبو داود (1142) و (1143)، وابن ماجه (1273)، والنسائي (1779) و (1791) و (5863) من طرق عن أيوب بن أبي تميمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم میں احمد، بخاری (1449)، مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے ایوب السختیانی کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 4/ (2169) و 5/ (3105) من طريق إبراهيم بن ميمون الصائغ، عن عطاء، عن ابن عباس قال: صلى رسول الله ﷺ بالناس يوم فطر ركعتين بغير أذان ثم خطب بعد الصلاة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2169/4 وغیرہ) نے ابراہیم بن میمون عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا کہ عید کی نماز دو رکعت تھی جس میں اذان نہیں تھی۔
وأخرج مسلم (886) (6) من طريق ابن جريج عن عطاء: أنَّ ابن عباس أرسل إلى ابن الزبير أول ما بويع له: إنما الخطبة بعد الصلاة.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم (886/6) نے ابن جریج عن عطاء کی سند سے نقل کیا کہ ابن عباس نے ابن زبیر کو پیغام بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے۔
وأخرج أحمد 5/ (3064) من طريق معمر، عن أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: شهدت النبي ﷺ صلى يوم العيد ثم خطب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3064/5) نے معمر عن ایوب عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 3/ (2062)، والبخاري (863) و (975) و (977) و (5249) و (7325)، وأبو داود (1146)، والنسائي (1789)، وابن حبان (2823) من طريق عبد الرحمن بن عابس قال: سمعت ابن عباس قيل له: أشهدت العيد مع النبي ﷺ؟ قال: نعم، ولولا مكاني منه ما شهدته - يعني من صغره - حتى أتى العَلَم الذي عند دار كثير بن الصلت، فصلى ثم خطب … الحديث. هذا لفظ البخاري (977).
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرحمن بن عابس عن ابن عباس کی سند سے مروی ہے کہ میں اپنی کم سنی کے باوجود نبی ﷺ کے ساتھ عید میں شریک ہوا (بخاری 977)۔
وأخرج أحمد 4/ (2171)، والبخاري (962) و (979) و (4895) و (5880)، ومسلم (884) (1)، والنسائي (1781) من طريق طاووس عن ابن عباس قال: شهدت العيد مع رسول الله ﷺ وأبي بكر وعمر وعثمان ﵃، فكلهم كانوا يصلون قبل الخطبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طاؤس عن ابن عباس کی سند سے مروی ہے کہ میں نے آپ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید پڑھی، سب خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے۔
وفي الباب عن أبي سعيد الخدري، سيأتي برقم (1113).
🔁 تکرار: ابوسعید خدری کی روایت آگے نمبر (1113) پر آئے گی۔
وعن عبد الله بن عمر، سيأتي برقم (1122). ¤ ¤ وعن غير واحد من الصحابة، انظر التعليق على "مسند أحمد" 8/ (4602).
🔁 تکرار: عبداللہ بن عمر کی روایت نمبر (1122) پر آئے گی۔ مزید صحابہ کی روایات مسند احمد (4602/8) میں دیکھیں۔