المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر وأربع بعدها حرمه الله على النار
جو شخص ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار رکعتوں کی پابندی کرتا ہے اللہ اسے جہنم پر حرام فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1188
فأخبرَناه أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا داود بن أبي هند. وأخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا معاذ بن المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا داود بن أبي هند، عن النعمان بن سالم، عن عَنْبَسة بن أبي سفيان، عن أُمِّ حَبِيبة بنت أبي سفيان قالت: قال رسول الله ﷺ:"من صلَّى ثِنتي عشرةَ سجدةً تطوُّعًا، بنى الله له بيتًا في الجنة" (1) . وأما حديث مكحول:
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بارہ نفل رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1188]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1188 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، على وهمٍ في إسناده، فقد اختُلف فيه على داود بن أبي هند:
⚖️ درجۂ حدیث: (1) "حدیث صحیح" ہے، اگرچہ داؤد بن ابی ہند پر اس کی سند میں وہم واقع ہوا ہے۔
فرواه عنه يزيد بن هارون هنا، وهشيم بن بشير عند أحمد 45/ (27395)، عن النعمان بن سالم، بهذا الإسناد. بلا واسطة بين النعمان وعنبسة.
📖 حوالہ / مصدر: یزید بن ہارون اور ہشیم بن بشیر (احمد 27395/45) نے اسے بغیر کسی واسطے کے نعمان بن سالم عن عنبسہ سے روایت کیا ہے۔
ورواه عنه سليمان بن حيان عند مسلم (728) (101)، وإسماعيل ابن علية عند أبي داود (1250)، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن أوس، عن عنبسة، عن أم حبيبة. وصحَّح ذلك الدارقطني في "العلل" (4026).
📖 حوالہ / مصدر: سلیمان بن حیان (مسلم 728) اور ابن علیہ (ابوداؤد 1250) نے نعمان اور عنبسہ کے درمیان "عمرو بن اوس" کا واسطہ بڑھایا ہے۔ دارقطنی نے اسی کو صحیح کہا ہے۔
ورواه عنه بشر بن المفضل، واختلف عليه فيه:
⚠️ سندی اختلاف: بشر بن مفضل سے اس کی روایت میں اختلاف ہوا ہے:
فرواه عنه مسدد بن مسرهد هنا، عن داود بن أبي هند به، دون ذكر عمرو بن أوس.
📖 حوالہ / مصدر: مسدد بن مسرہد نے یہاں بشر سے بغیر عمرو بن اوس کے ذکر کے روایت کیا ہے۔
وخالفه أبو غسان المسمعي عند مسلم (728) (102)، وحميد بن مسعدة عند النسائي (492)، فروياه عن بشر بن المفضل، عن داود بن أبي هند، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن أوس، عن عنبسة، عن أم حبيبة.
📖 حوالہ / مصدر: ابوغسان المسمعی (مسلم 728) اور حمید بن مسعدہ (نسائی 492) نے بشر سے عمرو بن اوس کے واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26775) و (26781)، ومسلم (728) (103)، والنسائي (491)، وابن حبان (2451) من طريق شعبة بن الحجاج، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن أوس، عن عنبسة، عن أم حبيبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (728/103) اور نسائی (491) نے شعبہ بن الحجاج عن نعمان عن عمرو بن اوس کی سند سے روایت کیا ہے۔