🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. سجدتا السهو إذا لم يدر كم صلى
جب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو دو سجدے سہو کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1225
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحَسَن بن بَيَان، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، أخبرنا حرب بن شَدَّاد، أخبرنا يحيى بن أبي كَثِير، حدثني عِيَاض قال: سألتُ أبا سعيد الخُدْري فقلت: أحدُنا يصلي فلا يدري كم صلى، قال: قال لنا رسول الله ﷺ:"إذا صلَّى أحدكم فلم يَدْرِ كم صلَّى، فليسجد سجدتين، وإذا جاء أحدَكُم الشيطانُ فقال: إنك قد أحدثْتَ، فليقل: كذبتَ، إلّا ما وَجَدَ رِيحًا بأنفه، أو سَمِع صوتًا بأُذنِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور اسے یہ معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یہ یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تو وہ (سہو کے) دو سجدے کرے، اور جب تمہارے پاس شیطان آئے اور کہے کہ تم بے وضو ہو گئے ہو، تو وہ (اپنے دل میں) کہے: «کذبتَ» تو نے جھوٹ بولا ہے، الا یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو محسوس کرے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1225]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1225 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض: وهو ابن هلال. عبد الله بن رجاء: هو الغُداني.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) "صحیح لغیرہ" ہے؛ عیاض بن ہلال کی جہالت کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ عبداللہ بن رجاء سے مراد الغدانی ہیں۔
وأخرجه مختصرًا دون قصة الحدث ابن ماجه (1204)، والترمذي (396)، والنسائي (590) من طريق هشام الدستوائي، والنسائي (591) من طريق شيبان النحوي، كلاهما عن يحيى بن أبي كثير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً ابن ماجہ (1204)، ترمذی (396) اور نسائی نے ہشام الدستوائی اور شیبان النحوی کی سندوں سے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وهو مكرر الحديث برقم (469) غير أنَّ شيخ الحاكم هناك هو دعلج السِّجْزي.
🔁 تکرار: یہ نمبر (469) کی تکرار ہے مگر یہاں حاکم کے شیخ دعلج السجزی ہیں۔
وسلف من طريق عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري في قصة الشك في الصلاة برقم (1217).
🔍 فنی نکتہ: عطاء بن یسار عن ابی سعید خدری کی روایت شک کے قصے کے ساتھ نمبر (1217) پر گزر چکی۔