المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. تغميض بصر الميت
میت کی آنکھیں بند کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1317
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن شاذانَ الجَوْهَري ببغداد، حدثنا أبي، حدثنا معلَّى بن منصور، حدثنا قَزَعة بن سُوَيد، عن حُمَيد الأعرج، عن الزُّهري، عن محمود بن لَبِيد، عن شَدَّاد بن أوْس قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا حَضَرتُم الميِّتَ فأَعْمِضُوا البَصَرَ، فإِنَّ البَصَرَ يَتْبعُ الرُّوحَ، وقولوا خيرًا، فإنَّ الملائكة تؤمِّن على دُعاء أهل البيت" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی میت کے پاس حاضر ہو تو (اس کی وفات کے بعد) آنکھیں بند کر دیا کرو، کیونکہ نگاہ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (اس وقت) صرف خیر کی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1317]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1317]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1317 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قزعة بن سويد. حميد الأعرج: هو ابن قيس المكي، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (2460) اور ابن ابی دنیا نے "المرض والكفارات" میں عمران بن زید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17136)، وابن ماجه (1455) من طريقين عن قزعة بن سويد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (24114/40) نے سفیان بن عیینہ عن عبدالرحمن بن قاسم عن ابیہ عن عائشہ کی سند سے روایت کیا کہ: "کسی مسلمان کو کانٹا چبھے یا اس سے زیادہ تکلیف ہو، تو اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں"۔
ويشهد له حديث أم سلمة عند مسلم (920)، وسيأتي عند المصنف برقم (6911).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے۔