المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. إذا استهل الصبي ورث وصلي عليه
اگر بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث ہوگا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 1361
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل المكِّي، عن أبي الزُّبير، عن جابر، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا استَهَلَّ الصبيُّ وُرِّثَ وصُلِّيَ عليه" (1) . الشيخان لم يحتجَّا بإسماعيل بن مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچہ (پیدا ہوتے ہی) چیخ مارے تو وہ وارث بھی بنے گا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔“
شیخین نے اسماعیل بن مسلم سے احتجاج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1361]
شیخین نے اسماعیل بن مسلم سے احتجاج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1361]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1361 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم المكي، وقد اختلف في رفعه ووقفه، ورجح وقفَه الترمذي والنسائي والدارقطني. أبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "حسن" ہے مگر یہ سند اسماعیل بن مسلم المکی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام ترمذی، نسائی اور دارقطنی نے اس کے "موقوف" ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1032) من طريق محمد بن يزيد الواسطي، عن إسماعيل بن مسلم المكي، بهذا الإسناد. وقال: وقد ذهب بعض أهل العلم إلى هذا، قالوا: لا يصلَّى على الطفل حتى يستهل، وهو قول سفيان الثوري والشافعي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1032) نے روایت کر کے فرمایا کہ بعض اہل علم (سفیان ثوری اور شافعی) کے نزدیک بچہ جب تک پیدا ہو کر آواز نہ نکالے (روئے نہ) اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
وأخرجه ابن ماجه (1508) و (2750) من طريق الربيع بن بدر، والبيهقي 4/ 8 من طريق الأوزاعي، كلاهما عن أبي الزبير، به. والربيع بن بدر هذا متروك، وفي الطريق إلى الأوزاعي بقية بن الوليد وفيه مقال.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1508) نے ربیع بن بدر (متروک راوی) اور بیہقی (8/4) نے اوزاعی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف من طريق المغيرة بن مسلم (8220)، ومن طريق سفيان الثوري (8221)، كلاهما عن أبي الزبير، عن جابر مرفوعًا.
🔁 تکرار: یہ آگے مغیرہ بن مسلم (8220) اور سفیان ثوری (8221) کے طریق سے مرفوعاً آئے گی۔
وأخرجه موقوفًا ابن أبي شيبة 3/ 319 و 11/ 382، والدارمي (3168)، والبيهقي 4/ 8 من طريق أشعث بن سوّار، عن أبي الزبير، عن جابر قوله.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن ابی شیبہ (319/3) اور دارمی نے اسے اشعث بن سوار کی سند سے حضرت جابر پر موقوف روایت کیا ہے۔
وأخرج ابن ماجه (2751) من طريق مروان بن محمد الطاطري، عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن جابر والمسور بن مخرمة مرفوعًا: "لا يرث الصبي حتى يستهل صارخًا". ورجاله ثقات، إلا أن الدارقطني أعلّه في كتابه "العلل" (3246) فوهّم فيه مروان بن محمد ثم قال: الصحيح عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن جابر والمسور وسعيد بن المسيب، أن رسول الله ﷺ قال … مرسلًا. كذا قال، ولم يبيّن رجاله إلى سليمان! ولم نقف على ما قاله مسندًا، لكن أخرج ابن أبي شيبة 3/ 319 خالد بن مخلد، عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب في المولود، قال: لا يورَّث حتى يستهلّ. وخالد ليس بذاك القوي.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن ماجہ (2751) میں حضرت جابر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ بچہ چیخ کر پیدا ہونے تک وارث نہیں بنتا۔ دارقطنی نے اسے "مرسل" قرار دیا ہے۔
وأخرج عبد الرزاق (6608) - ومن طريقه النسائي (6325) - عن ابن جريج قال: أخبرني أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول في المنفوس: يَرِثُ إِذا سُمِع صوتُه.
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (6608) اور نسائی (6325) میں حضرت جابر کا قول ہے: "بچہ وارث بنے گا اگر اس کی آواز سنی جائے"۔
وأخرجه موقوفًا أيضًا الدارمي (3172)، والبيهقي 4/ 8 من طريق محمد بن إسحاق، عن عطاء، عن جابر. وأشار الدارقطني في "العلل" (3271) إلى أن المثنى بن الصباح خالف ابنَ إسحاق ¤ ¤ فرواه عن عطاء مرفوعًا، والمثنى ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: دارمی اور بیہقی نے اسے ابن اسحاق عن عطاء کی سند سے موقوف روایت کیا ہے۔ مثنیٰ بن الصباح نے اسے مرفوعاً روایت کیا مگر وہ ضعیف ہے۔
قال الترمذي بإثر الحديث (1032): هذا حديث قد اضطرب الناس فيه، فرواه بعضهم عن أبي الزبير عن جابر عن النبي ﷺ مرفوعًا، وروى أشعث بن سوار وغير واحد عن أبي الزبير عن جابر موقوفًا، وروى محمد بن إسحاق عن عطاء بن أبي رباح عن جابر موقوفًا، وكأن هذا أصح من الحديث المرفوع.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سخت اضطراب ہے، ابوزبیر اور عطاء سے مروی موقوف روایات ہی مرفوع کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہیں۔
ويشهد للصلاة على الصبي حديث المغيرة السالف قبله.
🧩 متابعات و شواہد: بچے کے جنازے کی تائید اس سے پہلے گزرنے والی مغیرہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔
وروى ابن الأعرابي في "معجمه" (514) عن محمد بن سليمان بن هشام اليشكري عن عَبيدة بن حميد وعلي بن عاصم، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة مرفوعًا: "إذا استهل المولود ورث وصلي عليه". واليشكري ضعيف جدًّا.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن الاعرابی نے ابوہریرہ سے مرفوعاً اسے روایت کیا مگر اس کا راوی یشکری انتہائی ضعیف ہے۔
ويشهد لتوريث الصبي إذا استهل حديث أبي هريرة عند أبي داود (2920)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: پیدا ہوتے ہی آواز نکالنے والے بچے کی وراثت کا شاہد ابوداؤد (2920) میں ابوہریرہ کی حسن روایت ہے۔
وفي الباب عن ابن عباس موقوفًا عند الدارمي (3169)، وإسناده ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی موقوف روایت (دارمی 3169) ضعیف ہے۔