المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
57. الرخصة فى زيارة القبور
قبروں کی زیارت کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1404
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزّاز ببغداد، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَريُّ، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا سَلَّام بن سُلَيم، عن يحيى الجابر، عن عمرو بن عامر، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"نَهيتُكم عن زيارة القُبور فزُورُوها، فإنها تُذكِّركم الموتَ" (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا اب تم اس کی زیارت کیا کرو کوینکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1404]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1404 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى الجابر: وهو يحيى بن عبد الله بن الحارث الجابر، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه". زكريا بن عدي: هو التيمي مولاهم، وسلّام بن سُليم: يكنى أبا الأحوص.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یحییٰ الجابر کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے مگر صحیح لغیرہ ہے۔ ابوالاحوص (سلام بن سلیم) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 21/ (13615) عن عفان بن مسلم، عن أبي الأحوص، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (13615/21) نے عفان بن مسلم عن ابی الاحوص کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا كذلك أحمد (13487) من طريق ابن إسحاق، عن يحيى الجابر، به. وقرن بعمرو بن عامر عبدَ الوارث مولى أنس بن مالك، وعبد الوارث هذا قال أبو زرعة: منكر الحديث، وقال أبو حاتم: شيخ، وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: اسے احمد (13487) نے ابن اسحاق کے طریق سے بھی روایت کیا ہے مگر اس میں عبدالوارث مولیٰ انس "منکر الحدیث" ہے۔
وسيأتي برقم (1409) و (1410). ¤ ¤ وانظر تمام شواهده في "المسند".
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1409، 1410) پر آئے گی۔ شواہد کے لیے مسند احمد دیکھیں۔