المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
68. النهي عن سب الأموات
مردوں (مرحومین) کو گالی دینے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 1435
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجية، حدثنا رجاء بن محمد العُذْري، حدثنا عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، حدثنا شعبة، عن مِسعَر، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه: أنَّ المغيرة بن شعبة سبَّ عليَّ بن أبي طالب، فقام إليه زيدُ بنُ أرقمَ، فقال: يا مُغيرةُ، ألم تعلم أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن سبِّ الأموات، فلِمَ تسُبُّ عليًّا وقد مات؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1) .
زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے مغیرہ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے؟ تو پھر آپ علی کو کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1435]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1435]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1435 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عمرو بن محمد بن أبي رزين، وباقي رجاله ثقات. مسعر: هو ابن كدام، وعم زياد بن علاقة: هو قطبة بن مالك، وله صحبة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) عمرو بن محمد کی وجہ سے سند حسن ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں۔ صحابی قطبہ بن مالک، زیاد بن علاقہ کے چچا ہیں۔
وأخرجه أحمد 32/ (19288) عن محمد بن بشر، و (19315) عن وكيع، كلاهما عن مسعر، عن الحجاج بن أيوب مولى بني ثعلبة، عن قطبة بن مالك عمّ زياد بن علاقة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (19288/32) نے محمد بن بشر اور وکیع کی سندوں سے مسعر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
ورواية مسعر للحديث وقع فيها اضطراب، وقد أشار إلى الوهم فيها الدارقطني في "العلل" (1249)، والمحفوظ في الحديث أنه من رواية زياد بن علاقة عن المغيرة:
⚠️ علّت / فنی نکتہ: مسعر کی روایت میں اضطراب ہے، دارقطنی کے مطابق محفوظ بات یہ ہے کہ یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی مسند سے ہے۔
فقد أخرج أحمد 30/ (18208) و (18209)، والترمذي (1982)، وابن حبان (3022) من طرق عن سفيان الثوري، عن زياد بن علاقة، عن المغيرة بن شعبة، قال: نهى رسول الله ﷺ عن سب الأموات. وفي رواية عن المغيرة بن شعبة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تسبوا الأموات فتؤذوا الأحياء". فجعله من مسند المغيرة بن شعبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (18208/30)، ترمذی (1982) اور ابن حبان نے سفیان ثوری عن زیاد بن علاقہ عن المغیرہ کی سند سے روایت کیا کہ: "نبی ﷺ نے مردوں کو گالی دینے سے منع فرمایا"۔
وأخرجه كهذا اللفظ الأخير أحمد (18210) عن عبد الرحمن، عن سفيان، عن زياد بن علاقة، قال: سمعت رجلًا عند المغيرة بن شعبة قال: قال رسول الله ﷺ … فذكره. قلنا: والظاهر هذا الرجل المبهم هو زيد بن أرقم، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: ایک روایت میں "مردوں کو گالی نہ دو کہ اس سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے" کے الفاظ ہیں، جس میں راوی مبہم ہے جو غالباً حضرت زید بن ارقم ہیں۔