المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. الزكاة فى الزرع والكرم
کھیتی اور انگور کے باغ کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1477
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا أبو المُثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، عن الزُّهري، عن أبي أُمامةَ بن سهل بن حُنيف، عن أبيه: أنَّ النبيَّ ﷺ نهى عن لَونَينِ من التمر: الجُعْرُورِ، ولونِ الحُبَيْق، قال: وكان ناسٌ يَتَيَمَّمُون شرَّ ثمارِهم فيُخرِجونَها في الصدقة، فنُهُوا عن لَونَينِ من التَّمر، فنزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد تابعه سفيان بن حسين ومحمد بن أبي حَفْصة عن الزهري. فأما حديث سفيان بن حسين:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد تابعه سفيان بن حسين ومحمد بن أبي حَفْصة عن الزهري. فأما حديث سفيان بن حسين:
ابوامامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد (سیدنا سہل رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو قسموں 'جعرور' اور 'لون حبیق' (جو گھٹیا درجے کی ہوتی ہیں) کو زکوٰۃ میں لینے سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے گھٹیا پھل چھانٹ کر زکوٰۃ میں نکالتے تھے، تو انہیں کھجور کی ان دو قسموں سے منع کر دیا گیا اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ "اور تم اس میں سے ردی چیز دینے کا قصد نہ کرو" [سورہ بقرہ: 267] ۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ سفیان بن حسین اور محمد بن ابی حفصہ نے بھی زہری سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1477]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ سفیان بن حسین اور محمد بن ابی حفصہ نے بھی زہری سے اس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1477]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1477 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، سليمان بن كثير - وإن ضُعِّف في حديثه عن الزهري - قد توبع. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، سلیمان بن کثیر - اگرچہ زہری سے ان کی روایت میں ضعف ہے - لیکن ان کی تائید (متابعت) موجود ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ ہیں۔
وأخرجه يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 376، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 4/ 201، وابن أبي حاتم في "التفسير" 2/ 528، والطبراني في "الكبير" (5566)، والدارقطني (2040)، والبيهقي 4/ 136، وابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 84 من طرق عن أبي الوليد الطيالسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے یعقوب بن سفیان نے "المعرفہ والتاریخ" (1/ 376)، طحاوی نے "شرح معانی الآثار" (4/ 201)، ابن ابی حاتم نے "التفسیر" (2/ 528)، طبرانی نے "الکبیر" (5566)، دارقطنی (2040)، بیہقی (4/ 136) اور ابن عبدالبر نے "التمہید" (6/ 84) میں ابو الولید الطیالسی کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريقين آخرين عن أبي الوليد الطيالسي برقم (3162).
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے ابو الولید الطیالسی کے دو مزید طریقوں سے حدیث نمبر (3162) پر آئے گی۔
وانظر ما بعده. ¤ ¤ والجُعْرور: قال ابن الأثير في "النهاية": ضربٌ من الدَّقَل يحمل رطبًا صغارًا لا خير فيه.
📌 اہم نکتہ: ابن اثیر "النھایۃ" میں لکھتے ہیں کہ "جُعْرور" ردی کھجوروں کی ایک قسم ہے جو بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور ان میں کوئی فائدہ (اچھائی) نہیں ہوتی۔
ولون الحُبَيق: قال: هو نوع من أنواع التمر رديء منسوب إلى ابن حُبَيق، وهو اسم رجل.
📌 اہم نکتہ: "لون الحُبَيق": یہ ردی کھجوروں کی ایک قسم ہے جو ابنِ حبیق نامی شخص کی طرف منسوب ہے۔
يتيممون: أي: يتعمدون ويقصدون.
📌 اہم نکتہ: "یتیممون" کا معنی ہے: وہ جان بوجھ کر ارادہ اور قصد کرتے ہیں۔