🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. تأكيد الإعطاء للسائل
سائل کو دینے کی سخت تاکید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1538
أخبرني أحمد بن سَهْل بن حَمْدَويهِ الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا الليث بن سعد، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عبد الرحمن بن بُجَيد، أخي بني حارثة، أنَّ جدَّته حدّثته - وهي أم بُجَيد، وكانت زعمت أنها ممن بايعت رسولَ الله ﷺ أنها قالت: يا رسول الله، والله إنَّ المسكين لَيَقومُ على بابي، فما أجدُ له شيئًا أُعطِيه إيّاه، فقال لها رسول الله ﷺ:"فإن لم تَجِدي شيئًا تُعطيهِ إيَّاه إلَّا ظِلْفًا مُحرَّقًا، فادفَعيهِ إليه في يدِه" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ بجید رضی اللہ عنہا (آپ کہا کرتی تھیں کہ میں ان عورتوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خدا کی قسم: (کئی مرتبہ ایسے ہوتا ہے) کوئی مسکین میرے دروازے پر آ کر سدا دیتا ہے، لیکن میرے پاس اس کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تیرے پاس اس کو دینے کے لیے جلا ہوا کُھر ہی ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو۔ (سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1538]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1538 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي، عبد الرحمن بن بجيد مختلف في صحبته، وذكر الحافظ في "التقريب" أنَّ له رؤية، وقد روى عنه جمعٌ، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح الترمذي حديثه هذا. أم بجيد: يقال: اسمها حواء.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 👤 راوی پر جرح: عبدالرحمن بن بجید کی صحابیت میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں ذکر کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے (رؤیت ہے)۔ ان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے "الثقات" میں ان کا ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے ان کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ام بجید کا نام "حواء" بتایا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27149) و (27150)، وأبو داود (1667)، والترمذي (665)، والنسائي (2366)، وابن حبان (3337) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. وصحَّحه الترمذي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27149)، ابو داود (1667)، ترمذی (665)، نسائی (2366) اور ابن حبان (3337) نے لیث بن سعد کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (27148) و (27151) من طريقين عن سعيد المقبري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27148 اور 27151) نے سعید المقبری کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 45/ (27450)، والنسائي (2357)، وابن حبان (3374) من طريق زيد بن أسلم، وأحمد 27/ (16648)، و 38/ (23233) و 45/ (27152) من طريق منصور بن حيان، كلاهما عن ابن بجيد، عن جدته: أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ردُّوا السائل ولو بظِلف محرَّق"، والظِّلف، قال في "القاموس" بالكسر للبقرة والشاة وشِبهها بمنزلة القدم لنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، نسائی (2357) اور ابن حبان (3374) نے زید بن اسلم کے طریق سے، اور احمد (27/ 16648 وغیرہ) نے منصور بن حیان کے طریق سے (دونوں نے ابن بجید عن جدتہ کی سند سے) روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ، خواہ ایک جلا ہوا کُھر (پاؤں) ہی کیوں نہ دینا پڑے"۔ 📌 اہم نکتہ: "الظِّلف": قاموس کے مطابق گائے، بکری یا اس جیسے جانوروں کے کُھر کو کہتے ہیں جو ہمارے پاؤں کے برابر (مقام پر) ہوتا ہے۔
وقوله ﷺ: "ظِلفًا محرَّقًا" المقصود به المبالغة، وإلّا فالظلف المحترق لا ينتفع به عادةً.
📝 توضیح: آپ ﷺ کا قول "جلا ہوا کُھر": اس سے مراد مبالغہ ہے (یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دے دو)، ورنہ عام طور پر جلے ہوئے کُھر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔