المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. الدعوة عند الفطر
افطار کے وقت دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1550
أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد الخطيب بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا مروان بن سالم المُقفَّع قال: رأيت ابنَ عمر يَقبِضُ على لِحيتِه فيَقطَعُ ما زادَ على الكف، وقال: كان رسولُ الله ﷺ إذا أفطَرَ قال:"ذَهَبَ الظَّمأُ، وابتلَّتِ العُرُوق، وثَبَتَ الأجرُ إن شاء الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ مٹھی سے زائد ہوتا اسے کاٹ دیتے، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور ان شاء اللہ اجر ثابت ہو گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ حسین بن واقد اور مروان بن مقفع دونوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1550]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ حسین بن واقد اور مروان بن مقفع دونوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كما قال الدارقطني في "سننه" (2279)، والحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 202؛ مروان بن سالم المقفّع روى عنه ثقتان وذكره ابن حبان في "الثقات"، والحسين بن واقد صدوق لا بأس به، وإبراهيم بن هلال حسن الحديث، وقد سلفت ترجمته برقم (420) وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1550] [ترقيم الشركة 1541]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1550 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن كما قال الدارقطني في "سننه" (2279)، والحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 202؛ مروان بن سالم المقفّع روى عنه ثقتان وذكره ابن حبان في "الثقات"، والحسين بن واقد صدوق لا بأس به، وإبراهيم بن هلال حسن الحديث، وقد سلفت ترجمته برقم (420) وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے جیسا کہ دارقطنی اور حافظ ابن حجر نے کہا۔ مروان بن سالم المقفّع سے دو ثقہ راویوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ حسین بن واقد اور ابراہیم بن ہلال بھی حسن الحدیث ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2357) عن عبد الله بن محمد بن يحيى، والنسائي (3315) و (10058) عن ¤ ¤ قريش بن عبد الرحمن، كلاهما عن علي بن الحسن بن شقيق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2357) اور نسائی (3315) نے علی بن الحسن بن شقیق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وروى البخاري برقم (5892) من طريق محمد بن عمر بن زيد عن نافع: أنَّ ابن عمر كان إذا حجَّ أو اعتمر، قبض على لحيته، فما فَضَلَ أخذه. وهو عند مالك في "الموطأ" 1/ 396 عن نافع بلفظ: كان ابن عمر إذا حَلَقَ رأسه بحج أو عمرة، أخذ من لحيته وشاربه.
📌 اہم نکتہ: امام بخاری (5892) اور امام مالک (موطأ) نے نافع سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ اس سے زیادہ ہوتا اسے کاٹ دیتے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1550 in Urdu