المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. من صام الشك فقد عصى أبا القاسم - صلى الله عليه وآله وسلم -
جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 1557
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: إِنِّي رأيتُ الهلال - يعني هلالَ رمضان - فقال:"أتشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله؟" قال: نعم، قال:"أتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"يا بلالُ، أذِّن في الناس أن يَصُوموا غدًا" (1) . تابعه سفيانُ الثَّوريُّ وحمَّاد بن سَلَمة عن سِمَاك بن حرب. أما حديث الثوري:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دیہاتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لا الٰہ اللہ کی گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔ ٭٭ یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کرنے میں سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے زائدہ کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1557]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1557 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ في بعض روايات سماك عن عكرمة اضطرابًا، وقد اختُلف عليه في هذا الحديث، فرواه بعضهم مرسلًا وبعضهم موصولًا، ورجَّح الأكثر المرسل، إلَّا أنَّ له شاهدًا من حديث ابن عمر سلف قبلُ بحديثين. زائدة: هو ابن قدامة.
⚖️ درجۂ حدیث: اپنے شواہد کی بنا پر حسن (حسن لغیرہ) ہے، اگرچہ سماک عن عکرمہ کی بعض روایات میں اضطراب ہے اور اس کے متصل یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے (اکثر نے مرسل کو ترجیح دی ہے)، 🧩 متابعات و شواہد: تاہم اس کا شاہد ابن عمر ؓ کی وہ حدیث ہے جو دو نمبر پہلے گزر چکی ہے۔ 👤 راوی پر جرح: زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وقد سلف الحديث من طريق معاوية بن عمرو عن زائدة بن قدامة برقم (1116)، وسلف تخريجه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث پیچھے (رقم 1116) پر زائدہ بن قدامہ کے طریق سے گزر چکی ہے اور اس کی تخریج وہیں موجود ہے۔
أما طريق الحسين بن علي الجعفي هذه فقد أخرجها من طرق عنه: أبو داود (2340)، والترمذي (691 م)، والنسائي (2433)، وابن حبان (3446).
📖 حوالہ / مصدر: حسین بن علی الجعفی کے اس طریق کو ابو داود (2340)، ترمذی (691)، نسائی (2433) اور ابن حبان (3446) نے روایت کیا ہے۔
وانظر الأحاديث الثلاثة التالية.
📝 توضیح: اس کے بعد والی تین احادیث ملاحظہ فرمائیں۔