🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. من صام الشك فقد عصى أبا القاسم - صلى الله عليه وآله وسلم -
جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1559
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا الفضل بن موسى، حدثنا سفيان الثَّوري، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباس قال: جاء أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسولَ الله، قد رأيتُ الهلال، فقال:"أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأني رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"فنادِ أن يَصُوموا" (1) . أما حديث حماد بن سَلَمة:
فضل بن موسیٰ، سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے سماک بن حرب کے واسطے سے عکرمہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک دیہاتی ماہِ رمضان کی چاند رات میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ علیہ السلام نے فرمایا: تو اعلان کر دو کہ لوگ روزہ رکھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1559]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1559 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره كسابقيه. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه.
⚖️ درجۂ حدیث: گزشتہ کی طرح "حسن لغیرہ" ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابوالوجہ (محمد بن عمرو)، عبدان (عبداللہ بن عثمان) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (2434) عن محمد بن عبد العزيز، عن الفضل بن موسى السيناني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2434) نے محمد بن عبدالعزیز عن الفضل بن موسیٰ السینانی کی سند سے روایت کیا ہے۔