المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. ليس من البر الصيام فى السفر
سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1596
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميديّ، حدثنا سفيان، قال: سمعتُ الزُّهريّ يقول: أخبرني صفوان بن عبد الله بن صفوان، عن أم الدرداء (2) ، عن كعب بن عاصم الأشعري، أنَّ النبي ﷺ قال:"ليس من البرِّ الصيامُ في السَّفر" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على حديث حمزة بن عمرو الأسْلَمي، فأخرجاه من حديث هشام بن عُرْوة عن أبيه عن عائشة: أنَّ حمزة … (1) . وله رواية مفسَّرة من حديث أولاد حمزةَ بن عمرٍو، ولم يُخرجاه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على حديث حمزة بن عمرو الأسْلَمي، فأخرجاه من حديث هشام بن عُرْوة عن أبيه عن عائشة: أنَّ حمزة … (1) . وله رواية مفسَّرة من حديث أولاد حمزةَ بن عمرٍو، ولم يُخرجاه:
سیدنا کعب بن عاصم الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حالتِ سفر میں روزہ رکھنا کوئی (زیادہ) نیکی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حمزہ بن عمرواسلمی کی روایات نقل کی ہیں۔ تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ہشام بن عروہ پھر ان کی والدہ پھر اُمّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا ہے۔ اور ان کی ایک دوسری روایت بھی موجود ہے جو اس سے بھی مفسر ہے اور اس کی سند حمزہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اولادوں کے حوالے سے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1596]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1596 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ص): أبي الدرداء، وهو خطأ، والمثبت من (ع)، وسقط من (ب).
📝 توضیح: نسخہ (ز) اور (ص) میں "ابی الدرداء" لکھا ہے جو غلط ہے، درستگی نسخہ (ع) سے کی گئی ہے کہ یہ "ام الدرداء" ہیں۔
(3) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، والحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى، وسفيان: هو ابن عيينة، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب، وأم الدرداء: هي الصغرى، واسمها هجيمة - وقيل: جهيمة - بنت حيي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے، الحمیدی عبد اللہ بن الزبیر ہیں، سفیان ابن عیینہ ہیں، زہری محمد بن مسلم ہیں، اور ام الدرداء سے مراد "الصغریٰ" (ہجیمہ بنت حیی) ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (23681)، وابن ماجه (1664)، والنسائي (2575) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (39/ 23681)، ابن ماجہ (1664) اور نسائی (2575) نے سفیان بن عیینہ کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (23679) و (23680) من طريقين عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے زہری کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (2576) من طريق محمد بن كثير، عن الأوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب قال: قال رسول الله ﷺ … فذكره مرسلًا. ثم قال النسائي: هذا الحديث خطأ، ولا نعلم أحدًا تابع محمد بن كثير على هذا الإسناد، والله أعلم، والصواب الذي قبله. ¤ ¤ وفي الباب عن جابر بن عبد الله عند أحمد 22/ (14193)، ومسلم (1115).
⚠️ سندی اختلاف: نسائی (2576) نے اوزاعی عن زہری کی سند سے اسے سعید بن المسیب سے "مرسل" روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ "خطا" ہے، کیونکہ محمد بن کثیر کی اس سند میں کسی نے تائید نہیں کی، صحیح وہی ہے جو پیچھے گزری۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں جابر بن عبد اللہ ؓ کی حدیث احمد اور مسلم (1115) میں ہے۔
وعن عبد الله بن عمر عند ابن ماجه (1665)، وابن حبان (3548).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ابن ماجہ (1665) اور ابن حبان (3548) میں موجود ہے۔
(1) أخرجه البخاري (1942) و (1943)، ومسلم (1121) (103 - 106)، وهو في "مسند أحمد" 40/ (24196).
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1942، 1943) اور مسلم (1121) نے روایت کیا ہے، اور یہ "مسند احمد" (40/ 24196) میں بھی ہے۔