🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. مَنْعُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَيَوْمِ النَّحْرِ
ایامِ تشریق اور یومِ نحر کے روزے رکھنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سُليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا مالك. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المَرْوزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعْنَبي فيما قرأَ على مالك، عن يزيد بن الهاد، عن أبي مُرَّةَ مولى أُم هانئ: أنه دخل مع عبد الله بن عمرٍو على أبيه عمرو بن العاص، فقرَّب إليهما طعامًا، فقال: كُلْ، فقال: إنِّي صائم، فقال عمرو: كُلْ، فهذه الأيامُ التي كان رسول الله ﷺ يأمُرُنا بإفطارِها وينهانا عن صيامِها. قال مالك: وهُنَّ أيامُ التشريق (1) .
ام ہانی کے مولیٰ ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو انہوں نے ان دونوں کے سامنے کھانا پیش کیا اور فرمایا: کھاؤ، عبداللہ نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھاؤ، کیونکہ یہی وہ دن ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ افطار کرنے کا حکم دیتے تھے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے مراد ایامِ تشریق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1605] [ترقيم الشركة 1594]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1605 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2418) عن عبد الله بن مسلمة القعنبي، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 29/ (17768) عن روح بن عبادة، عن مالك بن أنس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2418) نے القعنبی سے اور امام احمد (29/ 17768) نے روح بن عبادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد (17769)، والنسائي (2912) و (2913) من طريق جعفر بن المطلب: أنَّ عبد الله بن عمرو دخل على عمرو بن العاص وهو يتغدى فقال: هلم، فقال: إني صائم … فذكر الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17769) اور نسائی نے جعفر بن المطلب کی سند سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمرو، حضرت عمرو بن العاص ؓ کے پاس گئے تو انہوں نے کھانے کی دعوت دی، عبد اللہ نے کہا کہ میں روزے سے ہوں...
وفي لفظ لأحمد (17779) من طريق جعفر بن المطلب أيضًا، وكان رجلًا من رهط عمرو بن العاص، قال: دعا أعرابيًا إلى طعام، وذلك بعد النحر بيوم، فقال الأعرابي: إني صائم، فقال له: إنَّ عمرو بن العاص دعا رجلًا إلى الطعام في هذا اليوم، فقال: إني صائم، فقال عمرو: إنَّ رسول الله ﷺ نهى عن صوم هذا اليوم.
📌 اہم نکتہ: مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق حضرت عمرو بن العاص ؓ نے فرمایا کہ ان ایام (ایامِ تشریق) میں رسول اللہ ﷺ نے روزے سے منع فرمایا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1605 in Urdu