المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. التوديع عند السفر
سفر کے وقت رخصت کرنے کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 1636
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عبادة، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: شَكَا ناسٌ إلى النبيِّ ﷺ المشيَ، فدعا بهم، فقال:"عليكم بالنَّسَلان"، فنَسَلْنا، فوجدناه أخفَّ علينا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدل چلنے (کی مشقت) کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا: ”تم «نسلان» (تیز قدمی اور ہلکے جھٹکوں کے ساتھ چلنے) کو لازم پکڑو“، چنانچہ ہم نے اسی طرح چلنا شروع کیا تو اسے اپنے لیے (پیدل چلنے کے مقابلے میں) زیادہ ہلکا اور آسان پایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1636]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وجعفر بن محمد: هو ابن علي الصادق.» [ترقيم الرساله 1636] [ترقيم الشركة 1625]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1636 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وجعفر بن محمد: هو ابن علي الصادق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابن جریج سے مراد عبدالملک بن عبدالعزیز اور جعفر بن محمد سے مراد امام جعفر الصادق ؒ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الآداب" (667) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الآداب" (667) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (1663 - كشف الأستار)، وابن خزيمة (2737)، والطبراني في "الأوسط" (8102)، والخطابي في "غريب الحديث" 2/ 371، وأبو نعيم في "الطب النبوي" (425) من طرق عن روح بن عبادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (کشف الاستار 1663)، ابن خزیمہ (2737)، طبرانی اور ابونعیم نے روح بن عبادہ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرج ابن خزيمة (2536)، وأبو يعلى (1880) - وعنه ابن حبان (2706) - من طريق عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، وأبو نعيم في "الطب النبوي" (426) من طريق محمد بن إسحاق، كلاهما عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر ضمن حديث خروجه ﷺ عام الفتح ¤ ¤ إلى مكة، وفيه: اجتمع المشاة من أصحاب النبي ﷺ فقالوا: نتعرض لدعوات رسول الله ﷺ، وقد اشتد السفر، وطالت المشقة، فقال لهم رسول الله ﷺ: "استعينوا بالنَّسل، فإنه يقطع عَلَمَ الأرض وتَخِفُّون له" قال: ففعلنا، فخففنا.
🧾 تفصیلِ روایت: ابن خزیمہ اور ابویعلیٰ نے اسے حضرت جابر ؓ کی اس روایت کے ضمن میں ذکر کیا ہے کہ فتح مکہ کے سال جب پیدل چلنے والے صحابہ تھک گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "نَسَل (تیز چال) سے مدد لو، یہ زمین کو جلد طے کرتی ہے اور اس سے تمہیں ہلکا پن محسوس ہوگا"۔
وسيأتي الحديث من وجه آخر عن روح برقم (2522).
📝 توضیح: یہ حدیث آگے روح بن عبادہ کے ایک اور طریق سے رقم (2522) پر آئے گی۔
والنَّسَلان بفتح النون والسين: الإسراع في المشي، قال الخطابي: هو ضرب من العَدْو مثل عَدْو الذئب.
📌 اہم نکتہ: "النَّسَلان" (نون اور سین کے زبر کے ساتھ): اس کا مطلب ہے چال میں تیزی لانا۔ خطابی کہتے ہیں کہ یہ بھاگنے کی ایک قسم ہے جیسے بھیڑیا بھاگتا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1636 in Urdu