المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. الجرس مزمار الشيطان
گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔
حدیث نمبر: 1646
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا ابن وهب، حدثني سليمان بن بلال، حدثني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"الجَرَسُ مِزْمارُ الشَّيطان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1646]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب هو عبد الله، والعلاء: هو ابن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقة.» [ترقيم الرساله 1646] [ترقيم الشركة 1635]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1646 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ابن وهب هو عبد الله، والعلاء: هو ابن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابن وہب سے مراد عبداللہ اور العلاء سے مراد ابن عبدالرحمن بن یعقوب (مولیٰ الحرقہ) ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (4704) من طريق حرملة بن يحيى، عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (4704) نے حرملہ بن یحییٰ عن ابن وہب کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14 / (8783)، وأبو داود (2556) من طريقين عن سليمان بن بلال، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8783) اور ابو داود (2556) نے سلیمان بن بلال کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (8851)، ومسلم (2114)، والنسائي (8761) من طريق إسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، به. فاستدراك المصنف لهذا الحديث ذهول منه ﵀.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (8851)، مسلم (2114) اور نسائی نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم ؒ کا اس حدیث کو مستدرک میں لانا ان کا سہو (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1646 in Urdu