🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. أقلوا الخروج إذا هدأت الرجل
جب پاؤں تھک جائیں تو باہر نکلنا کم کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1650
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرةَ قال: جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ يُريدُ سَفَرًا، فقال: يا رسول الله، أَوْصِني، فقال:"أُوصِيكَ بتقوى الله، والتَّكبيرِ على كلِّ شَرَف"، فلما مضى قال:"اللهمَّ ازْوِ له الأرضَ، وهَوِّن عليه السَّفَر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں، پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «اللهمَّ ازْوِ له الأرضَ، وهَوِّن عليه السَّفَر» اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس پر سفر کو آسان کر دے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي وهو في "مسند أحمد" 15/ (9724) و 16/ (10165).» [ترقيم الرساله 1650] [ترقيم الشركة 1639]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1650 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي وهو في "مسند أحمد" 15/ (9724) ¤ ¤ و 16/ (10165).
⚖️ درجۂ حدیث: اسامہ بن زید لیثی کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ یہ "مسند احمد" 15/ (9724) اور 16/ (10165) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2771) عن ابن أبي شيبة، عن وكيع، به. ولم يذكر دعاء النبي ﷺ للرجل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2771) نے ابن ابی شیبہ عن وکیع کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں نبی ﷺ کی اس شخص کے لیے دعا کا ذکر موجود نہیں۔
وأخرجه أحمد 14 / (8310) و (8385)، والترمذي (3445)، والنسائي (10266)، وابن حبان (2692) و (2702) من طرق عن أسامة بن زيد، به. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 14 / (8310)، ترمذی (3445)، نسائی اور ابن حبان نے اسامہ بن زید کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف من طريق عبيد الله بن موسى عن أسامة بن زيد برقم (2512).
📝 توضیح: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں عبید اللہ بن موسیٰ عن اسامہ کی سند سے آگے رقم (2512) پر آئے گی۔
وأخرج أحمد 15 / (9599)، وأبو داود (2598)، والنسائي (10261) من طريق محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا سافر قال: "اللهم أنت الصاحب في السفر، والخليفة في الأهل، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر، وكآبة المنقلب، وسوء المنظر في الأهل والمال، اللهم اطو لنا الأرض، وهوِّن علينا السفر". واللفظ لأبي داود، وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: احمد (15 / 9599)، ابو داود (2598) اور نسائی نے محمد بن عجلان عن سعید المقبری کی سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: "اے اللہ! تو ہی سفر میں رفیق ہے اور پیچھے گھر والوں کا نگران ہے... اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو سمیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وروى نحوه أبو زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة، وسيأتي عند المصنف برقم (2515).
📝 توضیح: اسی طرح کی روایت ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے بھی ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے جو آگے رقم (2515) پر آئے گی۔
وفي باب التكبير على كل شرف، عن جابر بن عبد الله عند البخاري (2993).
🧩 متابعات و شواہد: ہر بلندی پر تکبیر کہنے کے بارے میں حضرت جابر ؓ کی حدیث بخاری (2993) میں ہے۔
وعن ابن عمر عند البخاري (1797)، ومسلم (1344).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عمر ؓ کی روایت بخاری (1797) اور مسلم (1344) میں موجود ہے۔
وعن أبي موسى الأشعري عند البخاري (2992)، ومسلم (2704).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت بخاری (2992) اور مسلم (2704) میں ہے۔
وفي باب الدعاء في السفر عن ابن عمر عند مسلم (1342).
🧩 متابعات و شواہد: سفر میں دعا کے بارے میں ابن عمر ؓ کی روایت مسلم (1342) میں ہے۔
والشَّرَف، قال السندي في حاشيته على "مسند أحمد": بفتحتين، أي: مكان مرتفع، والمقصود تذكر عظمة الخالق عند رؤية ارتفاع المخلوق. ازْوِ: من زَوَى كطَوَى، لفظًا ومعنَى.
📌 اہم نکتہ: "الشَّرَف": علامہ سندی کہتے ہیں کہ اس سے مراد بلند جگہ ہے، مقصد یہ ہے کہ مخلوق کی بلندی دیکھ کر خالق کی عظمت یاد آئے۔ "ازْوِ": اس کا مطلب لپیٹنا یا سمیٹنا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1650 in Urdu